صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: باب: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَ : مَنْ وَضَعَ هَذَا ؟ " فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ ، قَالُوا : وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ، قُلْتُ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ : اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ .زہیر بن حرب اور ابوبکر بن نضر نے کہا: ہمیں ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ورقاء بن عمر یشکری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عبید اللہ بن ابی یزید کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر (انسانوں سے) خالی علاقے میں تشریف لے گئے میں نے (اس دوران میں) آپ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا۔ جب آپ آئے تو آپ نے پوچھا: ”یہ پانی کس نے رکھا ہے؟“ (زہیر کی روایت میں ہے: لوگوں نے کہا۔ اور ابوبکر کی روایت میں ہے: میں نے کہا)۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے۔ آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کا گہرا فہم عطا کر۔“