صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: باب: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ ، يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ ، وَالْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ، وَالْكَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ ، وَالشَّامِيَّةِ ؟ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَكَسَرْنَاهُ ، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ " .عبدالحمید بن بیان نے کہا: ہمیں خالد بن عبداللہ نے بیان سے خبر دی، انہوں نے قیس سے، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گاہ تھی جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم مجھے ذوالخلصہ کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی اذیت سے راحت دلاؤ گے؟“ تو میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو جوانوں کے ساتھ اس کی طرف گیا۔ ہم نے اس بت خانے کو توڑ دیا اور جن لوگوں کو وہاں پایا ان سب کو قتل کر دیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر سنائی تو آپ نے ہمارے لیے اور (پورے) قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَرِيرُ : أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ بَيْتٍ لِخَثْعَمَ ؟ كَانَ يُدْعَى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ ، قَالَ : فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُبَشِّرُهُ ، يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْنَاهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ، فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا ، خَمْسَ مَرَّاتٍ " .حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر یا:" جریر!کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے راحت نہیں دلا ؤ گے؟"یہ خثعم کا بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانیہ بھی کہا جا تا تھا۔حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: پھر میں ڈیڑھ سو گھڑسوار لے کر اس کی طرف روانہ ہوا اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے میرے سینے پر اپنا مبارک ہاتھ مارا اور دعا فر یا:" اے اللہ!اس کو (گھوڑے پر) جماد ے اور اسے ہدایت پہنچانے والا ہدایت پانے والا بنادے۔" (قیس بن ابی حازم نے) کہا؛ پھر وہ روانہ ہو ئے اور اس بت خانے کو آگ لگا کر جلا دیا،پھر حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا۔ اس کی کنیت ابوار طاۃ تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی، میں آپ کے پاس اسی وقت حاضر ہوا ہوں جب ہم نے اس (بت خانے) کو خارش زدہ اونٹ کی طرح (دیکھنے میں مکروہ ٹوٹا پھوٹا) کر چھوڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیا دوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فر ئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَرْوَانَ : فَجَاءَ بَشِيرُ جَرِيرٍ أَبُو أَرْطَاةَ حُصَيْنُ بْنُ رَبِيعَةَ يُبَشِّرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .وکیع، عبداللہ بن نمیر، سفیان، مروان فرازی اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور مروان کی حدیث میں کہا: تو حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خوشخبری دینے والے ابوارطاۃ حصین بن ربیعہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری دینے کے لیے آئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس لئے آنحضرتﷺ نے اسے ختم کرا کر ایک فساد کے مرکز کو ختم کرا دیا تاکہ عام مسلمان سکون حاصل کرسکیں۔
ذمی کافروں کے عبادت خانے مسلمانوں کی حفاظت میں آجاتے ہیں۔
لہٰذا ان کے لئے ہر دور میں اسلامی سربراہوں نے بڑے بڑے اوقاف مقرر کئے ہیں اور ان کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھا ہے جیسا کہ تاریخ شاہد ہے۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ کفار و مشرکین کی قوت کو ہرطرح سے کمزور کریں۔
ان کے رعب و دبدبے اور ان کی طاقت کو کمزور کرکے مسلمانوں کے لیے کامیابی کا راستہ آستان کریں۔
ان پر ہر قسم کی تنگی کرکے انھیں تباہ و برباد کردیا جائے۔
جب دشمن کا اخراج کسی اور طریقے سے ممکن نہ ہو تو ان کے مکانات گرادینے اور باغات جلادینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ بعض صحابہ کرام ؓسے باغات جلانے کی کراہت منقول ہے۔
شاید انھیں قرائن سے ان کے فتح ہونے کا یقین ہوگیا ہو،اس لیے انھوں نے مکانات وباغات کوتباہ کرنا اچھاخیال نہ کیاتاکہ وہ مسلمانوں کے کام آسکیں۔
(عمدةالقاري: 342/10)
ان پاکیزہ دعاؤ ں کا یہ اثر ہوا کہ حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ ایک بہترین شہسوار بن کر اس مہم پر روانہ ہوئے اور کا میابی سے واپس آئے۔
آپ نے اس بت خانے کے بارے میں جو فرمایا ا س کی وجہ یہ تھی کہ وہاںکفار ومشرکین اسلام کے خلاف سازشیں کرتے، رسول کریم ﷺ کی ایذارسانی کی تدابیر سوچتے اور کعبہ مقدس کی تنقیص کرتے اور ہر طرح سے اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے، لہذاقیام امن کے لیے اس کا ختم کرنا ضروری ہوا۔
حالت امن میں کسی قوم ومذہب کی عبادت گاہ کو اسلام نے مسمار کرنے کا حکم نہیں دیا ہے۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے عہد خلافت میں ذمی یہود اور نصاری کے گرجاؤں کو محفوظ رکھا اور ہندو ستان میں مسلمان بادشاہوں نے اس ملک کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی اور ان کے لیے جاگیریں وقف کی ہیں۔
جیساکہ تاریخ شاہد ہے۔
1۔
قبیلہ خشعم کے لوگوں نے بیت اللہ کی طرز پر ایک بت خانہ تیا رکیا تھا جسے کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کہا جاتاتھا۔
ذوالخلصہ، کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ یہ تینوں اس کےنام تھے۔
کعبہ یمانیہ اس لیے کہ اسے یمن میں تعمیر کیا گیا تھا اور کعبہ شامیہ اس لیے کہتے تھے کہ اس کا دروازہ شام کی طرف تھا جیسا کہ لاہور میں دہلی دروازے کا نام اس بناپر ہے کہ وہ انڈیا کے شہر دہلی کی طرف واقع ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت جریربن عبداللہ ؓ کو اسے توڑنے کے لیے مقرر فرمایا کیونکہ یہ بت خانہ ان کے علاقے میں تھا اوریہ اپنی قوم کے سردار تھے۔
ان کا تعلق قبیلہ بجیلہ سے تھا اور قبیلہ احمس ان کا حلیف تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے لیے دعا فرمائی۔
اس کی تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔
ان شاء اللہ۔
اسی طرح ذی الخلصہ جل بھن کر چھت وغیرہ گر کر کالا پڑ گیا تھا۔
باب کا مطلب اس طرح نکلا کہ جریر ؓنے کام پورا کر کے آپ ﷺکو خوش خبری بھیجی۔
فساد اور بد امنی کے مراکز کو ختم کرنا‘ قیام امن کے لئے ضروری ہے۔
خواہ وہ مراکز مذہب ہی کے نام پر بنائے جائیں۔
جیسا کہ آنحضرتﷺ نے مدینہ میں ایک مسجد کو بھی گرا دیا جو مسجد ضرار کے نام سے مشہور ہوئی۔
1۔
حضرت جرید بن عبداللہ ؓنے اس بت کدے کو جلا دیا۔
اس کے بعدانھوں نے رسول اللہ ﷺ کو خوشخبری بھیجی کہ ہم نے اس کا کام تمام کردیاہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ فساد اور بدامنی کے مراکز ختم کرنا قیام امن کے لیے بہت ضروری ہے،خواہ وہ مراکز مذہب کے نام پر ہی کیوں نہ بنائے گئے ہوں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ کے نواح میں ایک مسجد کو بھی گرادینے کا حکم دیا تھا جومسجد ضرار کے نام سے مشہور ہوئی۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ صاحب اختیار حاکم بھی تھے،اس لیے آپ نے ایسی کاروائیاں کرنے کا حکم دیا۔
2۔
اس دور میں ہمیں ان واقعات کی آڑ میں مزارات اور بت کدوں کو گرانے کی اجازت نہیں کیونکہ اس سے فساد پھیلنے کااندیشہ ہے،تاہم اگرحکومت یہ کام کرے تو درست ہے۔
واللہ أعلم۔
یعنی حدیث ہذا سے ثابت ہوا کہ جو چیزیں لوگوں کی گمراہی کا سبب بنیں وہ مکان ہوں یا کوئی انسان ہویا حیوان ہو یا کوئی جمادات سے ہو، شرعی طور پر ان کا زائل کر دینا جائز ہے۔
اوریہ بھی ثابت ہوا کہ کسی قوم کی دلجوئی کے لیے امیر قوم خود ان ہی میں سے بنانا بہتر ہے اور فتوحات کے نتیجہ میں دعا کر نا، بشارت دینا اور مجاہدین کی تعریف کرنا بھی جائز ہے اور جنگ میں گھوڑے کی سواری کی فضیلت بھی ثابت ہوئی اور رسول کریم ﷺ کے دست مبارک کی اور آپ کی دعاؤں کی برکت بھی ثابت ہوئی اور یہ بھی کہ آپ دعاؤں میں بھی وتر کا خیا ل رکھتے اور کبھی تین سے زیا دہ بار بھی دعا فرمایا کرتے تھے۔
1۔
حضرت جریر ؓ جب ذوالخلصہ کوتباہ وبرباد کرکے فارغ ہوئے تو آپ یمن میں دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دینے اور خوشخبری سنانے کے لیے ایک قاصد روانہ کیا، نبی کریم ﷺ کو جب ذوالخلصہ کےتباہ ہونے کی خبر ملی تو آپ نے قبیلہ احمس کے لیے پانچ مرتبہ دعا فرمائی۔
رسول اللہ ﷺ عام طور پر تین مرتبہ دعاکرتے تھے لیکن ان حضرات کے لیے پانچ مرتبہ دعا کی۔
اس سے مقصود مبالغہ تھا کیونکہ ان لوگوں نے اسلام کی سربلندی اور کفر کی تباہی و بربادی کے لیے اپنی قوم سے جنگ مول لی۔
پہلے رسول اللہ ﷺ نے اجتماعی طور پرشہسواروں اور پیادوں کی خیروبرکت کے لیے دعا فرمائی، پھر تاکید کے لیے دومرتبہ شہسواروں کے لیے اور دومرتبہ پیادوں کے لیے الگ الگ دعاکی۔
اس طرح ہر ایک کے لیے تین تین مرتبہ دعا ہوگئی۔
(فتح الباري: 91/8)
2۔
یمن میں ایک خرابی یہ بھی تھی کہ وہاں کے لوگ تیروں کے ذریعے سے قسمت آزمائی کرتے تھے جسے قرآن نے حرام کہا ہے لیکن یمن میں اس کی حرمت کے باوجود یہ دھندا عروج پرتھا۔
ممکن ہے کہ ان لوگوں کوحرمت کا علم نہ ہو، چنانچہ حضرت جریر ؓ نے جب سخت کلام کیا اور ڈانٹ پلائی تو پھر اس شخص نے اپنے تیروں کو توڑا اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا۔
3۔
ان احادیث میں حضرت جریر ؓ کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ انھیں رسول اللہ ﷺ نے خیروبرکت کی دعا سے نوازاتھا۔
4۔
اس بت خانے کو ختم کرنے کی یہ وجہ تھی کہ وہاں کفار ومشرکین اسلام کے خلاف سازشیں کرتے، رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے کے منصوبے بناتے اور کعبہ مقدس کی تنقیص کرتے تھے، لہذا قیام امن کے لیے اس کا ختم کرنا ضروری تھا۔
حالت امن اسلام کسی قوم ومذہب کا عبادت خانہ گرانے کا حکم نہیں دیتا۔
5۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو چیزیں لوگوں کی گمراہی کاسبب بنیں، وہ مکان ہو یا انسان یا کوئی حیوان یا جمادات، شرعی طور پر ان کا ختم کرنا ضروری ہے۔
واللہ اعلم۔
(1)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف اس بت کو ختم کیا بلکہ وہاں کے مجاوروں کو بھی نیست و نابود کر کے زمین کو گندگی سے پاک کر دیا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4355)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلۂ احمس کی بہادری اور ان کے گھوڑوں کی جفاکشی کے پیش نظر ان کے لیے پانچ مرتبہ خیر و برکت کی دعا فرمائی ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 3076) (2)
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت قدمی کی دعا فرمائی، دعا کرتے وقت اپنی ذات کو دعا میں شریک نہیں فرمایا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی بابت کو ثابت فرمایا ہے۔
جل بھن کر، بالکل یہی حال ذی الخلصہ کا ہوگیا۔
ذی الخلصہ والے اسلام کے حریف بن کر ہر وقت مخالفانہ سازشیں کرتے رہتے تھے۔
1۔
حضرت جریر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ وہ گھوڑے پرٹھہر نہیں سکتے توآپ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے قریب آؤ۔
‘‘ وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ مبارک ان کے سرپررکھا پھر اس کے چہرے اور سینے پر اسے پھیرتے ہوئے ناف تک لے گئے، پھردوبارہ اپنا ہاتھ ان کے سرپررکھا اور ان کی کمر پر اسے پھیرتے ہوئے ان کی سرین تک لے گئے، پھرفرمایا: ’’اے اللہ! جریر کو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنادے۔
‘‘ چنانچہ حضرت جریر ؓ نے اپنے ساتھیوں کے تعاون سے اس بت خانے کو جلا کرراکھ کردیا اور اسے خارشی اونٹ کی طرح بنادیا، یعنی وہ اس اونٹ کی طرح سیاہ ہوگیا جسے خارش کی وجہ سے گندھک ملی گئی ہو اور اس کے بال اُتر گئے ہوں اور اس کا چمڑا خارش اور گندھک ملنے کی وجہ سے خراب اور سیاہ ہوگیا ہو۔
(فتح الباري: 91/8)
2۔
رسول اللہ ﷺ نےحضرت جریر ؓ کو قبیلہ خشعم کی طرف بھیجنا اورانھیں ہدایت کی کہ وہ تین دن تک عقیدہ توحید کی دعوت دیں، اگروہ قبول کرلیں تو ان کا بت خانہ گرادیں اگروہ مسلمان نہ ہوں تو پھر انھیں بھی قتل کردیں۔
(فتح الباري: 90/8)
1۔
یمن میں خشعم قبیلے کا یہ بت کدہ ذوالخلصہ کے نام سے مشہور تھا اور مخالفین اسلام نے اسے اپنی منفی سرگرمیوں کے لیے مرکز کی حیثیت دے رکھی تھی، اس لیے اسے ختم کرنا بہت ضروری تھا۔
2۔
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ بہت ہی بہادر انسان تھے، دل میں توحید کا جذبہ موجزن تھا۔
رسول اللہ ﷺ کی منشا پاکر انھوں نے قبیلہ احمس کے سرداروں کو ساتھ لے کر اسے زمین بوس کردیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے ڈھیروں دعائیں کیں۔
3۔
حضرت جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں گھوڑےپر نہیں بیٹھ سکتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارکردعا فرمائی: ’’اے اللہ! اسے ثابت قدم کردے،اسے ہدایت یافتہ اور دوسروں کو ہدایت دینے والا بتادے۔
‘‘ اس واقعے کی مزید تفصیل حدیث 3020 میں دیکھی جاسکتی ہے۔
کسی بھی اس کی حاجت سے متعلق ہو۔
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ گھوڑے کی سواری میں پختہ نہیں تھے۔
اللہ نے اپنے حبیب کی دعا سے ان کی اس کمزوری کو دور کردیا۔
یہی بزرگ صحابی ہیں جنہوں نے یمن کے بت خانہ ذی الخلصہ کو ختم کیا تھا جو یمن میں کعبہ شریف کے مقابلہ پر بنایا گیا تھا۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
1۔
حضرت جریربن عبداللہ ؓاپنی قوم کے ذی وجاہت سردارتھے،اس لیے رسول اللہ ﷺ ان کا اکرام کرتے اور انھیں ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔
اس طرح ملنے سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ گھڑ سواری میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔
2۔
اس حدیث سے مجاہد کی کسی بھی حاجت کے لیے دعا کرنا ثابت ہے۔
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ گھوڑے کی سواری میں پختہ کار نہیں تھے،اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی دعا سے اس کمزوری کو دور کردیا،پھر انھوں نے یمن کے بت خانے کو خاکستر کیا جو کعبے کے مقابلے میں بنایا گیاتھا۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کیا تم مجھے ذو الخلصہ ۱؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ " ۲؎، یہ سن کر جریر رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2772]
1۔
بنو خشعم نے اپنا ایک معبد بنا رکھا تھا۔
جسے وہ (الکعبة الیمانیة) کہتے تھے۔
اس گھرکا نام (خلصہ) اور بت کا نام (ذوالخلصہ) رکھا ہوا تھا۔
حضرت جریر فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور یہ مہم سر کی۔
2۔
کسی اہم واقعے کی خوشخبری بھیجنا جائز ہے۔
بشرط یہ کہ اس میں اپنے کردار کا لوگوں کو سنانا اور دکھلانا مقصود نہ ہو بلکہ اسلام کی سر بلندی کی اطلاع دینا مقصود ہویا مسلمانوں کا بڑھاوا اور ان کی حوصلہ افزائی مقصود ہو۔
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا، اور جب بھی مجھے دیکھا میرے روبرو مسکرائے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر ٹک نہیں پاتا (گر جاتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پہ مارا اور دعا فرمائی: " اے اللہ! اس کو ثابت رکھ اور اسے ہدایت کنندہ اور ہدایت یافتہ بنا دے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 159]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ دراز قد، خوبصورت اور خوش شکل تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں اس امت کا یوسف کہا کرتے تھے۔
(2)
حاضر ہونے سے منع نہیں فرمایا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما ہوتے تھے یا کسی خاص مجلس میں رونق افروز ہوتے تھے اگر میں حاضری کی اجازت چاہتا تو مجھے ضرور اجازت مل جاتی تھی۔
کبھی حاضری سے منع نہیں کیا گیا، یعنی حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی قرب حاصل تھا۔
(3)
ملاقات کے وقت مسکرانا خوشی کا مظہر ہے، جو محبت کی علامت ہے کیونکہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کی ملاقات سے خوشی ہوتی ہے، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش خلقی اور خندہ پیشانی کی عادتِ مبارکہ بھی معلوم ہوتی ہے۔
(4)
گھوڑ سواری ایک فن ہے جس کا حصول ایک مجاہد کے لیے بہت ضروری ہے، حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو یہ شکایت تھی کہ گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتے تھے، گرنے کا خطرہ محسوس کرتے تھے، اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی۔
کسی بزرگ ہستی کو اپنی کسی کمزوری سے آگاہ کرنا درست ہے تاکہ کوئی مناسب مشورہ حاصل ہو یا دعا ہی مل جائے۔
(5)
جب کسی بزرگ سے دعا کی درخواست کی جائے تو اسے چاہیے کہ دعا کر دے، انکار نہ کرے۔
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسکرانے کا ذکر ہے۔ اسلام نے زیادہ ہنسنے کو پسند نہیں کیا بلکہ قرآن کریم میں ہے: " انھیں چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ۔ " (التوبہ: 82)