صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: باب: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيانٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ : قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : " أَحْجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ " .یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور عبدالحمید بن بیان واسطی نے خالد بن عبداللہ سے، انہوں نے بیان سے روایت کی، کہا: میں نے قیس بن ابی حازم کو یہ کہتے ہوئے سنا، حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب سے اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اپنے حجرے سے باہر نہیں روکا اور آپ نے جب بھی مجھے دیکھا آپ ہنس دیے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي " ، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ ، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ ، أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا .حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جب سے میں اسلام لا یا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی گھر سے باہر نہیں رو کا اور آپ نے کبھی مجھے نہیں مگر آپ ہمیشہ میرے سامنے مسکرا ئے ہیں۔ابن نمیر نے ابن ادریس سے اپنی روایت میں مزید یہ کہا: میں نے آپ سے شکا یت کی کہ میں گھوڑےپر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور فر یا:" اے اللہ!اسے ثبات (مضبوطی) عطا کر اور اسے ہدایت پہنچانے والاہدایت پا نے والابنا دے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں موجود ہوتے اور میں اندر آنے کی اجازت لیتا تو آپ نے مجھے کبھی نہیں روکا، یہ معنی نہیں کہ آپ بلااجازت گھر کے اندر چلے جاتے تھے، نیزرسول اللہ ﷺ بھی انھیں دیکھتے تو مسکرادیتے۔
ایک روایت میں ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں یمن سے مدینہ طیبہ آیاتو قریب پہنچ کر میں نے اپنا لباس تبدیل کیا تو لوگ مجھے تعجب سے دیکھنے لگے۔
میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے میراذکر خیر کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا ہے: ’’ابھی ابھی تمہارے پاس یمن سے ایک بہترین آدمی آرہا ہے، جس کے چہرے کو فرشتے نے مس کیا ہے، یعنی وہ انتہائی خوبصورت ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 359/4۔
360)
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3820]
وضاحت:
1؎:
یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپﷺ نے اجازت دیدی، منع نہیں کیا، اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے، ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دیدینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔