مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2471
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جِيءَ بِأَبِي مُسَجًّى ، وَقَدْ مُثِلَ بِهِ ، قَالَ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ ، فَنَهَانِي قَوْمِي ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ ، فَنَهَانِي قَوْمِي ، فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ أَوْ صَائِحَةٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ فَقَالُوا : بِنْتُ عَمْرٍو ، أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو ، فَقَالَ : وَلِمَ تَبْكِي ، فَمَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ " .

سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے ابن منکدر کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایا گیا، ان کا مثلہ کیا گیا تھا (ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں (اور دیکھوں) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا، میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر کپڑا اٹھایا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو (اس وقت) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: عمرو کی بیٹی (شہید ہونے والے عبداللہ کی بہن) ہے یا (کہا:) عمرو کی بہن (شہید کی پھوپھی) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیوں روتی ہے؟ ان (کے جنازے) کو اٹھائے جانے تک فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا ہوا ہے۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أُصِيبَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ ، فَجَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَأَبْكِي ، وَجَعَلُوا يَنْهَوْنَنِي ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي ، قَالَ : وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو ، تَبْكِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَبْكِيهِ ، أَوْ لَا تَبْكِيهِ ، مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ " .

شعبہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ میرا باپ احد کے دن شہید ہوا تو میں اس کے منہ سے کپڑا اٹھاتا تھا اور روتا تھا۔ لوگ مجھے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ کرتے تھے۔ اور عمرو کی بیٹی فاطمہ (یعنی میری پھوپھی) وہ بھی اس پر رو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو روئے یا نہ روئے، تمہارے اسے اٹھانے تک فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کیے ہوئے تھے۔“

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح ، وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ الْمَلَائِكَةِ ، وَبُكَاءُ الْبَاكِيَةِ .

امام صاحب دو اور اساتذہ کی سندوں سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں،لیکن ابن جریج کی حدیث میں فرشتوں،ملائکہ اور رونے والی کے رونے کا ذکر نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مُجَدَّعًا ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .

عبدالکریم نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: احد کے دن میرے والد کو اس طرح لایا گیا کہ ان کی ناک اور ان کے کان کاٹ دیے گئے تھے، انہیں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2471
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایاگیا،ان کا مثلہ کیاگیا تھا(ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں(اوردیکھوں) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا،میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر کپڑا اٹھایا،یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو(اس وقت) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی۔آپ صلی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6354]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
قد مثل بهظ: ان کے اعضاء و جوارح ہاتھ پاؤں، کان، ناک وغیرہ کاٹ دئیے گئے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2471 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔