مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2470
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا ؟ فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ ، كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُولُ : أَنَا ، أَنَا ، قَالَ : فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ ؟ قَالَ : فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ ، قَالَ : فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ بِهِ هَامَ الْمُشْرِكِينَ " .

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا کہ یہ مجھ سے کون لیتا ہے؟ لوگوں نے ہاتھ پھیلائے اور ہر ایک کہتا تھا کہ میں لوں گا میں لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حق کون ادا کرے گا؟ یہ سنتے ہی لوگ پیچھے ہٹے (کیونکہ احد کے دن کافروں کا غلبہ تھا) سیدنا سماک بن خرشہ ابودجانہ ؓ نے کہا کہ میں اس کا حق ادا کروں گا۔ پھر انہوں نے اس کو لے لیا اور مشرکوں کے سر اس تلوار سے چیرے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2470
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا کہ یہ مجھ سے کون لیتا ہے؟ لوگوں نے ہاتھ پھیلائے اور ہر ایک کہتا تھا کہ میں لوں گا میں لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حق کون ادا کرے گا؟ یہ سنتے ہی لوگ پیچھے ہٹے (کیونکہ احد کے دن کافروں کا غلبہ تھا) سیدنا سماک بن خرشہ ابودجانہ ؓ نے کہا کہ میں اس کا حق ادا کروں گا۔ پھر انہوں نے اس کو لے لیا اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6353]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
احجم القوم: لوگ پیچھے ہٹ گئے، یعنی اپنے ہاتھ روک لیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا حق ادا کرنا بڑا مشکل کام ہے۔
(2)
فلق به: اس کے ذریعہ چاک کیا، پھاڑا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2470 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔