حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ ، لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ ، وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ ، وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ ، كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، لَكُمْ سِيمَا ، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ " .

مروان نے ابومالک اشجعی سعد بن طارق سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور (اس کا پانی) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، (یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے، اس لیے) میں (امت کے علاوہ دوسرے) لوگوں کو اس سے روکوں گا، جیسے آدمی اپنے حوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے۔“

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ ، وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَتَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا ، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ ، وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ ، فَلَا يَصِلُونَ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، هَؤُلَاءِ مِنْ أَصْحَابِي ، فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ ، فَيَقُولُ : وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ؟ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اس سے لوگوں کو ہٹاؤں گا۔ جیسے ایک مرد اپنے اونٹوں سے دوسرے انسان کے اونٹوں کو ہٹاتا ہے۔“ انہوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی میں نہیں ہو گی۔ تم میرے پاس وضو کے اثرات کی بنا پر روشن چہرے، چمک دار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں۔ تو مجھے ایک فرشتہ جواب دے گا: اور کیا آپ جانتے ہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئے کام نکالے تھے۔“

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .

ہمیں محمد بن عبدالعالیٰ رحمہ اللہ نے معتمر رحمہ اللہ کے واسطہ سے اس کے باپ رحمہ اللہ کی، بکر رحمہ اللہ سے حسن رحمہ اللہ کی، مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے اس کے باپ کی روایت اوپر کی طرح بیان کی۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ جميعا ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ بَكْرٌ : وَقَدْ سَمِعْتَ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ ، وَعَلَى الْعِمَامَةِ ، وَعَلَى الْخُفَّيْنِ " .

یحییٰ بن سعید نے (سلیمان) تیمی سے، انہوں نے بکر بن عبداللہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی (بکر نے کہا: میں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے (بلاواسطہ بھی) سنا) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے سر کے اگلے حصے پر اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 247
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: صفة امة محمد صلی اللہ علیہ وسلم برقم (4282) انظر ((التحفة)) برقم (13399)»