مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ ، " وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا " .

شیبان نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس (باریک ریشم) کا ایک جبہ ہدیہ کیا گیا، حالانکہ آپ ریشم (پہننے) سے منع فرماتے تھے، لوگوں کو اس (کی خوبصورتی) سے تعجب ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ اچھے ہیں۔“

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةِ الْجَنْدَلِ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ .

عمر بن عامر نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے (بادشاہ) اکیدر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حلہ ہدیہ کیا، پھر اسی کے مانند بیان کیا، البتہ اس میں یہ ذکر نہیں کیا: (حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ریشم سے منع فرماتے تھے)۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2469
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2615 | صحيح البخاري: 3248 | صحيح البخاري: 3802 | سنن ترمذي: 1723 | سنن نسائي: 5304

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی جبہ کاتحفہ پیش کیاگیا اور آپ ریشم(پہننے) سے منع فرماتے تھے تو لوگ اس سے تعجب کرنے لگے،چنانچہ آپ نے فرمایا،"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے!جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تولیے بھی اس سے زیادہ اچھے ہیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6351]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مناديل: مندیل کی جمع ہے جوندل میل کچیل سے ماخوذ ہے معنی تولیہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2469 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1723 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اس ضمن میں ایک اور باب۔`
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی الله عنہ (ہمارے پاس) آئے تو میں ان کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہوں، انس رضی الله عنہ رو پڑے اور بولے: تم سعد کی شکل کے ہو، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ۱؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے: ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ جنت میں سعد کے رومال ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1723]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: یہ جبہ اکیدردومہ نے نبی اکرم ﷺکے لیے بطور ہدیہ بھیجاتھا، یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1723 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5304 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سونے کے کام والے دیبا نامی ریشمی کپڑا پہننے کا بیان۔`
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب مدینے آئے، تو میں ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، وہ بولے: سعد تو بہت عظیم شخص تھے اور لوگوں میں سب سے لمبے تھے، پھر وہ رو پڑے اور بہت روئے، پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ کے بادشاہ اکیدر کے پاس ایک وفد بھیجا، تو اس نے آپ کے پاس دیبا کا ایک جبہ بھیجا، جس میں سونے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5304]
اردو حاشہ: (1) اما م نسائی رحمہ اللہ کا ترجمۃ الباب سے مقصد یہ مسئلہ بیان کرنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم کا ایسا جوڑا زیب تن کیا تھا جس کی بنائی سونے کے تاروں سے کی گئی تھی۔ امام صاحب کا مقصد یہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں مذکور الفاظ فلبسه رسول الله ﷺ شاذ ہیں۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی مذکور ہے لیکن اس میں یہ الفاظ (جنہیں شاذ کہا گیا ہے) نہیں ہیں بہر حال یہ امام نسائی رحمہ اللہ کا اپنا رجحان ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اگلا باب اس کے نسخ کے متعلق قائم کیا ہے۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کےلیے دیکھیے: (ذخیرة العقبی شرح سنن النسائي:39/ 28، 29)
(2) اس حدیث مبارکہ سے قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور جنت میں اعلیٰ مقام نیز اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی قدرو منزلت معلوم ہوتی ہے کہ ان کے اونی کپڑے دنیا کے قیمتی اور بہترین ریشم سے بہتر ہیں کیونکہ تولیہ یا ہاتھ صاف کرنے والا رومال دیگر کپڑوں اور لباس کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت اورگھٹیا ہوتا ہے جب وہ اس قدر قیمتی ہے تو ان کے استعمال کے دوسرے کپڑے اور لباس کس قدر بہتر اور قیمتی ہوں گے۔
(3) یہ حدیث مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ مشرک کا ہدیہ قبول کیا جا سکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں مذکورہ حدیث پر ان الفاظ سے عنوان قائم کیا ہے: قبول الهدية من المشركين (صحیح البخاري: الهبة وفضلها والتحريض عليها، باب28)
(4) تشریف لائے حضرت انس رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے انصاری تھے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ بصرہ چلے گئے۔ کبھی کبھی اپنی جنم بھومی مدینہ منورہ میں تشریف لاتے تھے۔
(5) لمبے قد کے ان کے پوتے واقد بھی لمبے قد کاٹھ کے تھے اس لیے ان کو دیکھ کر یہ ذکر فرمایا۔
(6) رومال عربی میں لفظ مندیل استعمال ہوا ہے۔ مندیل چھوٹے رومال کو کہتے ہیں جو گردوغبار صاف کرنے کےلیے ہاتھ میں رکھا جاتا ہے۔ عموماً یہ باقی لباس سے کم تر ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5304 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3802 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3802. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کو ایک ریشمی جوڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ کے صحابہ کرام ؓ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر اس کی نرمی پر اظہار تعجب کرنے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اس کی نرمی پر تعجب کرتے ہو! یقین جانو کہ (جنت میں) سعد بن معاذ کے رومال اور تولیے اس سے کہیں بڑھ کر نرم ہیں۔‘‘ اس حدیث کو قتادہ اور زہری نے حضرت انس ؓ سے سنا، انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3802]
حدیث حاشیہ:

نبی ﷺ کو اکید دومہ نے ریشمی جوڑا بطور ہدیہ بھیجا تھا۔
2 (صحیح البخاري، الھبة و فضلها، حدیث: 2616۔
)
نبی ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ حضرت سعد بن معاذ ؓ کا نام اس لیے لیا کہ وہ ریشمی کپڑے پسند کرتے تھے یا اس جوڑے کو دیکھ کر انصار نے تعجب کیا تو آپ نے فرمایا: ’’تمھارے سردار کو اس سے بڑھ کر جوڑے پیش کیے گئے ہیں۔
‘‘ 3۔
رومال کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ دوسرے کپڑوں کے مقابلے میں بہت ہلکا ہوتا ہے اور اس سے صفائی وغیرہ کاکام لیا جاتا ہے دوسرے کپڑوں کے لیے گویا یہ خادم کی حیثیت رکھتا ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک ادنیٰ کپڑے کی عمدگی بیان فرمائی تاکہ اعلیٰ کپڑوں کی عمدگی کا اندازہ کیا جا سکے۔
(فتح الباري: 514/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3802 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔