حدیث نمبر: 2465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ ، كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ : مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ " ، قَالَ قَتَادَةُ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : مَنْ أَبُو زَيْدٍ ؟ ، قَالَ : أَحَدُ عُمُومَتِي .

شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چار اشخاص نے قرآن مجید جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے تھے: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ۔ قتادہ نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوزید کون؟ فرمایا: وہ میرے ایک چچا ہیں۔

حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا زَيْدٍ " .

ہمام نے کہا: قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن کس نے جمع کیا تھا؟ انہوں نے کہا: چار آدمیوں نے اور وہ چاروں انصار میں سے تھے: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، اور انصار کے ایک شخص جن کی کنیت ابوزید رضی اللہ عنہ تھی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2465
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد میں چاراشخاص نے قرآن مجید جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے تھے:حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔قتادہ نے کہا:میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:ابو زید کون؟فرمایا:وہ میرے ایک چچا ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6340]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جمع سے یہاں مراد پورے قرآن مجید کی کتابت ہے کہ ان حضرات نے مکمل قرآن مجید لکھا تھا، حفظ قرآن مراد نہیں ہے اور یہ بھی انہوں نے اپنے علم کے مطابق بیان کیا ہے، ان کو صرف ان کا علم تھا، حالانکہ جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے حفاظ کی تعداد ستر (70)
تھی اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اسی لیے قرآن مجید جمع کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر مختلف جنگوں میں قرآن کریم کے حافظ اسی طرح شہید ہوتے رہے تو کہیں قرآن مجید کا کوئی حصہ ہی ناپید نہ ہو جائے، پھر یہ کیسے ممکن ہے مہاجرین میں سے کسی نے بھی قرآن مجید یاد نہ کیا ہو، حتی کہ خلفائے اربعہ بھی اس سے محروم رہے ہوں، نیز یہ چاروں خزرجی ہیں، کیا کسی اوسی نے قرآن مجید یاد نہیں کیا تھا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اپنا مصحف تھا، جس کو انہوں نے خلیفہ کے حوالہ نہیں کیا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2465 سے ماخوذ ہے۔