حدیث نمبر: 2463
أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، مَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ سُورَةٌ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ ، وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي ، تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ "

مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کتاب اللہ کی کوئی سورت نہیں مگر میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ کب نازل ہوئی، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نہیں مگر مجھے علم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہیں تو میں (اونٹوں پر سفر کر کے) اس کے پاس جاؤں (اور قرآن کا علم حاصل کروں)۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2463
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،اس ذات کی قسم جس کے سواکوئی معبود نہیں!کتاب اللہ کی کوئی صورت نہیں مگر میں اسکے متعلق جانتاہوں کہ وہ کب نازل ہوئی،اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نہیں مگر مجھے علم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی،اور اگر مجھے یہ معلوم ہوکہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والاہے۔اور اس کے پاس اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں سوار ہوکراس کے پاس پہنچوں گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6333]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی ضرورت اور مقصد کے تحت انسان اپنے علم و فضل کا اظہار کر سکتا ہے، لیکن بلا ضرورت یا اپنی بڑائی کے اظہار اور فخروریا کی خاطر ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2463 سے ماخوذ ہے۔