حدیث نمبر: 2461
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ ، قَالَ : " شَهِدْتُ أَبَا مُوسَى ، وَأَبَا مَسْعُودٍ حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَتُرَاهُ تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : إِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنْ كَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا " .

انھوں نے کہا: جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا میں نے اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پو چھا:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کو ئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو؟انھوں نے جواب دیا: جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انھیں اس وقت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضری کی اجا زت ہو تی تھی،جب ہمیں روک لیا جا تاتھا،اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھےجب ہم مو جو دنہ ہو تے تھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : " كُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَى مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالُ أَبُو مَسْعُودٍ ، مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَرَكَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا لَئِنْ ، قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ كَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا " .

قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے، انہوں نے مالک بن حارث سے، انہوں نے ابواحوص سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے چند ساتھیوں (شاگردوں) کے ہمراہ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے۔ وہ سب ایک مصحف (قرآن مجید کا نسخہ) دیکھ رہے تھے، اس اثنا میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے، جو (ابھی) اٹھا ہے، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے یہ کہا ہے تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ اس وقت حاضر رہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اور انہیں (اس وقت بھی) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی۔

وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا مُوسَى ، فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، وَأَبَا مُوسَى . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَحَدِيثُ قُطْبَةَ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ .

ابوعبیدہ نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے روایت کی، کہا: میں حضرت حذیفہ اور ابوموسی رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اور (یہی) حدیث بیان کی۔ قطبہ کی حدیث مکمل اور زیادہ ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2461
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
انھوں نے کہا: جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا میں نے اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پو چھا:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کو ئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو؟انھوں نے جواب دیا: جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انھیں اس وقت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضری کی اجا زت ہو تی تھی،جب ہمیں روک... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6329]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت ابن مسعود کو ان اوقات میں باریابی کا موقع مل جاتا تھا، جبکہ دوسرے حاضر نہیں ہو سکتے تھے اور وہ ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتے تھے، جبکہ دوسرے ہر جگہ اور ہر مجلس میں آپ کے ساتھ موجود نہیں ہوتے تھے، اگر علم میں ان کے ہم پلہ کوئی اور نہیں ہے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے، وہ 32ھ میں حضرت عثمان کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2461 سے ماخوذ ہے۔