صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ بِلاَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَا بِلَالُ : " حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْفَعَةً ، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ بِلَالٌ : مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَا أَتَطَهَّرُ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال سے صبح کی نماز کے بعد فرمایا: ”اے بلال! مجھ سے وہ عمل بیان کر جو تو نے اسلام میں کیا ہے اور جس کے فائدے کی تجھے بہت امید ہے، کیونکہ میں نے آج کی رات تیری جوتیوں کی آواز اپنے سامنے جنت میں سنی ہے۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اسلام میں کوئی عمل ایسا نہیں کیا جس کے نفع کی امید بہت ہو سوا اس کے کہ رات یا دن میں کسی بھی وقت جب پورا وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے نماز پڑھتا ہوں جتنی کہ اللہ تعالیٰ نے میری قسمت میں لکھی ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
جاہلیت کے دور میں لوگوں نے عتیرہ کے لیے رجب کا مہینہ مقرر کیا تھا، جب آپ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: عتیرہ درست ہے، اگر کوئی اس پر عمل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ماہ رجب کی تخصیص درست نہیں ہے، جس مہینہ میں بھی اس کی توفیق ہو کر لے اور لوگوں کو کھلا دے، جس سے ثابت ہوا، اپنی طرف سے وقت مقرر کرنا درست نہیں ہے۔
حدیث کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے۔
یہ اللہ تعالی نے آپ کو دکھلا دیا جو نظر آیا وہ ہونے والا تھا۔
علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ بہشت میں بیداری کے عالم میں اس دنیا میں رہ کر آنحضرت ﷺ کے سوا اور کوئی نہیں گیا۔
آپ معراج کی شب میں وہاں تشریف لے گئے۔
اسی طرح دوزخ میں اور یہ جو بعض فقراء سے منقول ہے کہ ان کا خادم حقہ کی آگ لینے کے لیے دوزخ میں گیا محض غلط ہے۔
بلال ؓ دنیا میں بھی بطور خادم کے آنحضرت ﷺ کے آگے سامان وغیرہ لے کر چلا کرتے، ویسا ہی اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو دکھلا دیا کہ بہشت میں بھی ہو گا۔
اس حدیث سے بلال ؓ کی فضیلت نکلی اور ان کا جنتی ہونا ثابت ہوا۔
(وحیدی)
(1)
جامع ترمذی اور صحیح ابن خزیمہ کی روایت میں ہے کہ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا: میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کر لیتا ہوں اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتا ہوں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسی وجہ سے تم نے یہ انعام حاصل کیا ہے۔
‘‘ (جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3689، و صحیح ابن خزیمة: 213/2، و مسند أحمد: 360/5)
یہ حدیث ان احادیث کے معارض نہیں جن میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ جنت میں داخلہ تو صرف اللہ کے فضل و کرم سے ہو گا، پھر داخلے کے بعد درجات کا تفاوت اعمال کی وجہ سے ہو گا۔
(فتح الباري: 48/3)
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت بلال ؓ نبی ؑ سے پہلے جنت میں داخل ہو گئے، کیونکہ حضرت بلال اس عالم رنگ و بو میں ایک خادم خاص کی حیثیت سے آپ کے آگے آگے ہوتے تھے، اس لیے نیند میں بھی وہ اسی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے آئے۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو نیند کی حالت میں دیکھا تھا اور آپ کی عادت مبارک تھی کہ نماز فجر کے بعد اپنا خواب بیان کرتے یا کسی دوسرے کا خواب سن کر اس کی تعبیر کرتے تھے۔
روایت میں نماز فجر کے ذکر سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے۔
(فتح الباري: 44/3) (2)
ابن جوزی فرماتے ہیں کہ وضو کے بعد نماز پڑھنی چاہیے تاکہ وضو بلا مقصد نہ ہو۔
امام بخاری ؒ اس حدیث کو نماز تہجد میں لائے ہیں تاکہ تحیۃ الوضوء ثابت کیا جائے۔
ہمیشہ با وضو رہنا مومن کے لیے ایک زبردست ہتھیار ہے، کیونکہ شیطان نجس اور پلید چیزوں سے مانوس ہوتا ہے اور طہارت و پاکیزگی سے نفرت کرتا ہے، نیز جب آدمی باوضو رہتا ہے تو رات دن کی نمازیں اس سے فوت نہیں ہوتیں۔