حدیث نمبر: 2456
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذِهِ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " .

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں جنت میں داخل ہواتو میں نے آہٹ سنی،میں نے پوچھا،یہ کون ہے؟انہوں(فرشتوں) نے کہا،یہ انس بن مالک کی ماں"غميصاء" بنت ملحان ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2456
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں جنت میں داخل ہواتو میں نے آہٹ سنی،میں نے پوچھا،یہ کون ہے؟انہوں(فرشتوں) نے کہا،یہ انس بن مالک کی ماں"غميصاء" بنت ملحان ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6320]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: غَمَصَ اور رمص آنکھوں کے کیچڑ کو کہتے ہیں، چونکہ ان کی آنکھوں میں کیچڑ رہتا تھا، اس لیے ان کو غميصاء اور رميصاء کے نام سے پکارتے تھے اور ان کی بہن ام حرام کو رميصاء کہتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2456 سے ماخوذ ہے۔