صحيح مسلم
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل
باب خُرُوجِ الْخَطَايَا مَعَ مَاءِ الْوُضُوءِ: باب: وضو کے پانی کے ساتھ گناہوں کا جھڑنا۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ ، أَوِ الْمُؤْمِنُ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ ، كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ ، خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاء ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایک مسلم (یا مومن) بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی (یا پانی کے آخری قطرے) کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ سارے گناہ، جنہیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کیا تھا، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی (یا پانی کے آخری قطرے) کے ساتھ وہ سارے گناہ، جو اس کے ہاتھوں نے پکڑ کر کیے تھے، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو پانی (یا پانی کے آخری قطرے) کے ساتھ وہ تمام گناہ، جو اس کے پیروں نے چل کر کیے تھے، خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر نکلتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: " جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ۱؎، جو اس کی آنکھوں نے کیے تھے یا اسی طرح کی کوئی اور بات فرمائی، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے " ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 2]
1؎:
گناہ جھڑ جاتے ہیں کا مطلب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، اور گناہ سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ خالص توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔
2؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وضو جسمانی نظافت کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت کا بھی ذریعہ ہے۔
3؎:
بظاہر یہ ایک مشکل عبارت ہے کیونکہ اصطلاحی طور پر حسن کا مرتبہ صحیح سے کم ہے، تو اس فرق کے باوجود ان دونوں کو ایک ہی جگہ میں کیسے جمع کیا جا سکتا ہے؟ اس سلسلہ میں مختلف جوابات دیئے گئے ہیں، سب سے عمدہ توجیہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کی ہے۔
(الف)
اگر حدیث کی دو یا دو سے زائد سندیں ہوں تو مطلب یہ ہو گا کہ یہ حدیث ایک سند کے لحاظ سے حسن اور دوسری سند کے لحاظ سے صحیح ہے، اور اگر حدیث کی ایک ہی سند ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک طبقہ کے یہاں یہ حدیث حسن ہے اور دوسرے کے یہاں صحیح ہے، یعنی محدث کے طرف سے اس حدیث کے بارے میں شک کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ حسن ہے یا صحیح۔
جوشخص وضو کرتے وقت ان مذکورہ بالا احادیث کو ملحوظ رکھتا ہے، اس کے دل کو اللہ کی وسیع مغفرتِ و رحمت کا عجیب احساس اور تقوی و تزکیہ میں نمایاں اضافہ نصیب ہوتا ہے، جس کی روحانی لذت و شیرینی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔
اس حدیث میں وضو کی فضیلت اور اعضائے وضو کو دھونے کی فضیلت کا بیان ہے کہ ہر عضو کو دھونے سے اس عضو کے صغیرہ گناہ محو ہو جاتے ہیں اور وضو سے فراغت کے بعد وہ صغیرہ گناہوں سے مکمل پاک ہو جاتے ہے اور اس کے بعد نماز اور دیگر اعمال صالحہ اس کی نیکیوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔