صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: باب: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہماکی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى ، قُلْتِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جان لیتا ہوں جب تو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"ہاں،جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہوتوکہتی ہو،نہیں،رب محمد کی قسم!اور جب تم ناراض ہوتی ہو،تو کہتی ہو،نہیں رب ابراہیم کی قسم!میں نے کہا،ٹھیک ہے،اللہ کی قسم!اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)!میں صرف آپ کانام ہی چھوڑتی ہوں۔"
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”نہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!“ تک روایت کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
ترجمہ باب سے مطابقت یوں ہوئی کہ جب حدیث سے بے گناہ خفا رہنا جائز ہوا تو گناہ کی وجہ سے خفا رہنا بطریق اولیٰ جائز ہوگا۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی طبعی امر کی وجہ سے ناراضی کی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خفا ہو جاتی تھیں اور آپ کا غصہ صرف طبعی غیرت کی وجہ سے ہوتا تھا جو عورتوں کے لیے معاف ہے کیونکہ یہ غیرت خاوند سے زیادہ محبت کی بنا پر ہوتی ہے۔
جب کسی طبعی امر کی بنا پر ناراضی کی جا سکتی ہے تو مخالف شرع کام پر بطریق اولی جائز ہے۔
مخالف شریعت کام اگر زیادہ سنگین ہے تو بائیکاٹ اور ناراضی بھی زیادہ ہونی چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے پچاس رات تک قطع تعلق کیا تھا اور اگر کسی معاشرتی وجہ سے ناراضی ہو تو خندہ پیشانی ترک ہونی چاہیے، دل میں ناراضی نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔
آپ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینا ترک کر دیتی تھیں، دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بدستور باقی رہتی تھی۔
واللہ اعلم. (فتح الباري: 611/10) (2)
امام ابو داود رحمہ اللہ میل ملاپ چھوڑنے کی وعید ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اگر یہ قطع تعلقی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتو اس پر وعیدیں نہیں ہیں کیونکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا تھا۔
(سنن ُبذ داود، الأدب، تحت حدیث: 4916)
ظاہر میں غصہ کی وجہ سے آپ کام نام نہیں لیتی۔
یہ غصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے بطور ناز محبوبیت کے ہوا کرتا تھا۔
قسطلانی نے کہا اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ عورت اپنے خاوند کا نام لے سکتی ہے یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔
(1)
اگر بیوی اپنے خاوند کی بدکاری اور اس کی طرف سے اپنی حق تلفی پر غیرت کرے اور ناراضی کا اظہار کرے تو یہ غیرت اور ناراضی جائز ہے اور اگر کسی قسم کی دلیل کے بغیر محض شکوک و شبہات کی بنا پر غیرت اور غصہ کرتی ہے تو اس قسم کی غیرت ناپسندیدہ اور گناہ ہے۔
(2)
واضح رہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غرق رہتی تھیں، ظاہر میں غصے کی وجہ سے آپ کا نام نہیں لیتی تھیں۔
یہ غصہ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے بطور ناز محبوبیت ہوا کرتا تھا۔
اس حالت میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام لیتی تاکہ محبوبیت کے دائرے سے کسی طرح بھی خارج نہ ہوں۔
رضی اللہ عنہا (فتح الباري: 405/9)