حدیث نمبر: 2439
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى ، قُلْتِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ " .

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جان لیتا ہوں جب تو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"ہاں،جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہوتوکہتی ہو،نہیں،رب محمد کی قسم!اور جب تم ناراض ہوتی ہو،تو کہتی ہو،نہیں رب ابراہیم کی قسم!میں نے کہا،ٹھیک ہے،اللہ کی قسم!اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)!میں صرف آپ کانام ہی چھوڑتی ہوں۔"

وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .

عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”نہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!“ تک روایت کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2439
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5228 | صحيح البخاري: 6078

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6078 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6078. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہاری ناراضی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کیسے پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب تم خوش ہوتی تو کہتی ہو: کیوں نہیں مجھے رب محمد ﷺ کی قسم ہے اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں نہیں، مجھے رب ابراہیم کی قسم ہے۔ سیدہ عائشہ‬ ؓ ن‬ے کہا: میں نے عرض کی: ہاں ایسا ہی ہے، میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑ دیتی ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6078]
حدیث حاشیہ: باقی دل سے آپ کی محبت نہیں جاتی۔
ترجمہ باب سے مطابقت یوں ہوئی کہ جب حدیث سے بے گناہ خفا رہنا جائز ہوا تو گناہ کی وجہ سے خفا رہنا بطریق اولیٰ جائز ہوگا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6078 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6078 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6078. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہاری ناراضی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کیسے پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب تم خوش ہوتی تو کہتی ہو: کیوں نہیں مجھے رب محمد ﷺ کی قسم ہے اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں نہیں، مجھے رب ابراہیم کی قسم ہے۔ سیدہ عائشہ‬ ؓ ن‬ے کہا: میں نے عرض کی: ہاں ایسا ہی ہے، میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑ دیتی ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6078]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی طبعی امر کی وجہ سے ناراضی کی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خفا ہو جاتی تھیں اور آپ کا غصہ صرف طبعی غیرت کی وجہ سے ہوتا تھا جو عورتوں کے لیے معاف ہے کیونکہ یہ غیرت خاوند سے زیادہ محبت کی بنا پر ہوتی ہے۔
جب کسی طبعی امر کی بنا پر ناراضی کی جا سکتی ہے تو مخالف شرع کام پر بطریق اولی جائز ہے۔
مخالف شریعت کام اگر زیادہ سنگین ہے تو بائیکاٹ اور ناراضی بھی زیادہ ہونی چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے پچاس رات تک قطع تعلق کیا تھا اور اگر کسی معاشرتی وجہ سے ناراضی ہو تو خندہ پیشانی ترک ہونی چاہیے، دل میں ناراضی نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔
آپ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینا ترک کر دیتی تھیں، دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بدستور باقی رہتی تھی۔
واللہ اعلم. (فتح الباري: 611/10) (2)
امام ابو داود رحمہ اللہ میل ملاپ چھوڑنے کی وعید ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اگر یہ قطع تعلقی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتو اس پر وعیدیں نہیں ہیں کیونکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا تھا۔
(سنن ُبذ داود، الأدب، تحت حدیث: 4916)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6078 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5228 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5228. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں جب تم مجھ پر خوش ہوتی ہو اور جب مجھ پر ناراض ہوتی ہو۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کو یہ کیونکر معلوم ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں نہیں، مجھے رب محمد کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی تو کہتی ہو: نہیں نہیں سیدنا ابراہیم ؑ کے رب کی قسم! میں نے عرض کی: میں نے عرض کی: ہاں اللہ کے رسول اللہ کی قسم! غصے کے وقت صرف آپ کا نام زبان نہیں لاتی۔ (دل میں آپ کی محبت میں غرق ہوتی ہوں)[صحيح بخاري، حديث نمبر:5228]
حدیث حاشیہ: دل میں تو آپ کی محبت میں غرق رہتی ہوں۔
ظاہر میں غصہ کی وجہ سے آپ کام نام نہیں لیتی۔
یہ غصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے بطور ناز محبوبیت کے ہوا کرتا تھا۔
قسطلانی نے کہا اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ عورت اپنے خاوند کا نام لے سکتی ہے یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5228 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5228 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5228. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں جب تم مجھ پر خوش ہوتی ہو اور جب مجھ پر ناراض ہوتی ہو۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کو یہ کیونکر معلوم ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں نہیں، مجھے رب محمد کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی تو کہتی ہو: نہیں نہیں سیدنا ابراہیم ؑ کے رب کی قسم! میں نے عرض کی: میں نے عرض کی: ہاں اللہ کے رسول اللہ کی قسم! غصے کے وقت صرف آپ کا نام زبان نہیں لاتی۔ (دل میں آپ کی محبت میں غرق ہوتی ہوں)[صحيح بخاري، حديث نمبر:5228]
حدیث حاشیہ:
(1)
اگر بیوی اپنے خاوند کی بدکاری اور اس کی طرف سے اپنی حق تلفی پر غیرت کرے اور ناراضی کا اظہار کرے تو یہ غیرت اور ناراضی جائز ہے اور اگر کسی قسم کی دلیل کے بغیر محض شکوک و شبہات کی بنا پر غیرت اور غصہ کرتی ہے تو اس قسم کی غیرت ناپسندیدہ اور گناہ ہے۔
(2)
واضح رہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غرق رہتی تھیں، ظاہر میں غصے کی وجہ سے آپ کا نام نہیں لیتی تھیں۔
یہ غصہ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے بطور ناز محبوبیت ہوا کرتا تھا۔
اس حالت میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام لیتی تاکہ محبوبیت کے دائرے سے کسی طرح بھی خارج نہ ہوں۔
رضی اللہ عنہا (فتح الباري: 405/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5228 سے ماخوذ ہے۔