صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: باب: سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2429
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ " .حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے سوارکرلیا اور مجھے ایک راز کی بات بتائی،جو میں کسی انسان کو نہیں بتاؤں گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے سوارکرلیا اور مجھے ایک راز کی بات بتائی،جو میں کسی انسان کو نہیں بتاؤں گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6270]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کا آپ کے استقبال کے لیے مدینہ سے باہر جانا اور آپ کا ان کو اپنے آگے یا پیچھے سوار کرنا، باہمی محبت و پیار کی علامت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی سے پیار و محبت کرنا اس کے لیے سعادت و فضیلت ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2429 سے ماخوذ ہے۔