حدیث نمبر: 2427
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ : " أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا ، وَأَنْتَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ " .

عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمۃ ا للہ علیہ بیان کرتے ہیں،حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا،تمھیں یاد ہے جب میں نے تم نے اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااستقبال کیا؟انہوں نے کہا،ہاں،(ابن جعفر کہتے ہیں) تو آپ نے ہمیں سوار کرلیا اور تمھیں چھوڑدیا۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَإِسْنَادِهِ .

امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2427
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3082

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3082 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3082. حضرت عبداللہ بن زبیر ؓسے روایت ہے، انھوں نے ابن جعفر ؓ سے کہا: کیا تمھیں یاد ہے کہ جب ہم، تم اور حضرت ابن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے استقبال کو گئے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں (خوب یاد ہے) آپ ﷺ نے ہمیں تو اپنے ساتھ سوار کرلیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3082]
حدیث حاشیہ: حافظ صاحب ؒ فرماتے ہیں: ظاهرہ أن القائل فحملنا هو عبداللہ بن جعفر وأن المتروك هو ابن الزبیر الخ یعنی ظاہر ہے کہ سوار ہونے والے حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ ہیں اور متروک حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہیں۔
مگر مسلم میں اس کے برعکس مذکور ہے: وقد نبه عیاض علی أن الذي وقع في البخاري هو الصواب یعنی قاضی عیاض ؒ نے تنبیہ کی ہے کہ بخاری کا بیان زیادہ صحیح ہے۔
اس سے غازیوں کا آگے بڑھ کر استقبال کرنا ثابت ہوا۔
نیز اس سے یتیموں کا زیادہ خیال رکھنا بھی ثابت ہوا۔
کیونکہ حضرت عبداللہ کے والد جعفر بن ابی طالب ؓ انتقال کر چکے تھے۔
آنحضرتﷺ نے ان کے یتیم بچے عبداللہ ؓ کا دل خوش کرنے کے لئے سواری پر ان کومقدم کیا‘ اگر کسی صحابی پر آنحضرتﷺ نے کبھی کسی امر میں نظر عنایت فرمائی تو اس پر اس صحابی کے فخر کرنے کا جواز بھی ثابت ہوا‘ کسی بزرگ کی طرف سے کسی پر نظر عنایت ہو تو وہ آج بھی بطور فخر اسے بیان کر سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3082 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3082 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3082. حضرت عبداللہ بن زبیر ؓسے روایت ہے، انھوں نے ابن جعفر ؓ سے کہا: کیا تمھیں یاد ہے کہ جب ہم، تم اور حضرت ابن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے استقبال کو گئے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں (خوب یاد ہے) آپ ﷺ نے ہمیں تو اپنے ساتھ سوار کرلیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3082]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاد،حج یا دیگر کسی سفر سے واپس آنے والے کا خوشی اورسرور سے استقبال کرنا مستحسن ہے۔

صحیح مسلم کی ایک رویت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن زبیر ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کواپنے ساتھ بٹھا لیا اور عبداللہ بن جعفر ؓ کو چھوڑدیا تھا۔
(صحیح البخاري، العمرة، حدیث: 1798)
یہ راوی کا وہم ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث راجح ہے،نیز ایک روایت کے مطابق ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے تو خاندان عبدالمطلب کے بچوں نے آپ کا استقبال کیا۔
آپ نے ایک کو اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے بٹھالیا۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6266(2427)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن جعفر ؓ کو آپ نے سوارکیا تھا۔
ابن جعفر،خاندان عبدالمطلب سے ہیں۔
(فتح الباري: 230/6)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3082 سے ماخوذ ہے۔