حدیث نمبر: 2425
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَا كُنَّا نَدْعُ وَزَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ : ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 " ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى : أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الدُّوَيْرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ،

قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن عبداللہ (بن عمر) سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ کہا کرتے تھے: ہم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی نام سے نہیں پکارتے تھے، یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ» ”ان (متنبیٰ) کو ان کے اپنے باپوں کی نسبت سے پکارو، اللہ کے نزدیک یہی زیادہ انصاف کی بات ہے۔“ (اس کتاب کے ایک راوی) شیخ ابواحمد محمد بن عیسیٰ (نیشاپوری) نے کہا: ہمیں ابوعباس سراج اور محمد بن عبداللہ بن یوسف دویری نے بیان کیا، کہا: ہمیں بھی (امام مسلم رحمہ اللہ کے استاد) قتیبہ بن سعید نے یہ حدیث بیان کی (یعنی اس کتاب کے راوی نے یہ حدیث امام مسلم کے علاوہ قتیبہ سے ان کے دو اور شاگردوں کے حوالے سے بھی سنی۔)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ .

وہیب نے کہا: موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے سالم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے مانند حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2425
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4782

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ(بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاکرتے تھے،ہم زید بن حارثہ کو زیدبن محمد ہی کے نام سے پکارا کرتے تھے،حتیٰ کہ قرآن مجید کی یہ آیت اُتری،"ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو،اللہ کے ہاں یہی قرین انصاف ہے۔"(احزاب آیت نمبر 5)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6262]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت زید رضی اللہ عنہ بچے تھے کہ جاہلیت کے دور میں بنوقین کے لوگوں نے ان کو اٹھا کر عکاظ کے بازار میں بیچ ڈالا اور حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے خرید لیا اور انہوں نے شادی کے بعد، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا، آہستہ آہستہ، ان کے والد کو پتہ چل گیا، جو ان کے فراق کے غم میں روتے رہتے تھے، وہ اپنے بھائی کعب کو ساتھ لے کر، فدیہ کی رقم کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے فرمایا، اپنے بچے سے پوچھ لو، اگر وہ تمہارے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو تو مجھے کوئی انکار نہیں ہے، لیکن اگر وہ میرے ساتھ رہنا چاہیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ میں اسے نظر انداز کر دوں، حضرت زید نے آپ کے پاس اپنے کو ترجیح دی تو آپ نے جاہلیت کے دستور کے مطابق، اعلان کر دیا، آج سے زید میرا بیٹا ہے، میں اس کا وارث ہوں اور وہ میرا وارث ہو گا، اس سے حضرت زید کے باپ اور چچا خوش اور مطمئن ہو کر چلے گئے اور اس کے بعد سے حضرت زید، زید بن محمد کہلانے لگے، حتیٰ کہ قرآن مجید نے اس رسم کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا، تفصیل کے لیے دیکھئے (طبقات ابن سعد ج 3 ص 40 تا 43 اور اصابہ ج 1 ص 245 تا 246)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2425 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4782 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4782. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت زید بن حارثہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ (جب آپ نے انہیں متنبیٰ بنا لیا تو) ہم لوگ انہیں زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی: ’’ان منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ اللہ کے ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4782]
حدیث حاشیہ: اسلام کے قانون میں لے پالک لڑکے لڑکی کا کوئی وزن نہیں ہے اس کو اولاد حقیقی جیسے حقوق نہیں ملیں گے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4782 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4782 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4782. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت زید بن حارثہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ (جب آپ نے انہیں متنبیٰ بنا لیا تو) ہم لوگ انہیں زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی: ’’ان منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ اللہ کے ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4782]
حدیث حاشیہ:

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے تھے اور آپ کو ان سے انتہائی محبت تھی، اسی طرح حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی آپ سے بہت تعلق خاطر تھا۔
ان کےبھائی حضرت جبلہ بن حارثہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرے بھائی زید کومیرے ساتھ بھیج دیں۔
آپ نے فرمایا: ’’وہ حاضر ہے، اور اگر وہ تمہارے ساتھ (یمن)
جانا چاہے تو میں اسے منع نہیں کروں گا۔
‘‘ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا، چنانچہ حضرت جبلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کی رائے کو اپنی رائے سے افضل اور وزنی پایا۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3815)

اللہ تعالیٰ نے دور جاہلیت کی رسم کو ختم کرنا چاہا تو اس کے لیے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب کیا، چنانچہ آیت کے نزول کےبعد انھیں زید بن محمد کی بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔
بہرحال اسلامی قانون میں لے پالک کی ایسی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ اسے حقیقی اولاد جیسے حقوق ملیں۔
(واللہ اعلم)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4782 سے ماخوذ ہے۔