حدیث نمبر: 2424
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً ، وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، فَأَدْخَلَهُ ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا " .

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں سیدنا حسن ؓ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین ؓ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃالزہراء ؓ آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی ؓ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو۔(الاحزاب: 32)۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2424
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں سیدنا حسن ؓ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین ؓ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃالزہراء ؓ آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی ؓ آئے تو ان کو بھی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6261]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس آیت مبارکہ کا آغاز یوں ہوتا ہے، "اپنے گھروں میں قرار پکڑے رہو اور پہلے اور جاہلیت کی طرح اپنی زیب و زینت کی نمائش نہ کرتی پھرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتی رہو تاکہ اللہ تم سے پلیدی کو دور کر دے، آخر تک، "اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا اصل اور اولین مصداق ازواج مطہرات ہیں اور دوسرا کوئی بالتبع اور قانونی طور پر مراد بن سکتا ہے اور آپ کی دعا کی برکت کی بنا پر مذکورہ بالا افراد، اضافی اور ثانوی طور پر داخل ہیں، قرآنی آیات کا سیاق و سباق یعنی ما قبل وما بعد صرف اور صرف ازواج مطہرات کے بارے میں ہے، کوئی دوسرا اس کا احتمال نہیں رکھتا، اور رہا ضمیر مذکر کا مسئلہ تو قرآن اور عربی محاورات کی رو سے بیوی کو جمع مذکر کے صیغہ سے مخاطب کیا جا سکتا ہے، حضرت ابراہیم کی بیوی کو فرشتوں نے عليكم اهل البيت (تم اہل بیت پر)
سے خطاب کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں کئی جگہ آیا ہے، أتيكم، لعلكم، تصطلون، جمع مذکر کے صیغے بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے استعمال ہوئے ہیں، عربی اشعار اور احادیث میں بھی یہ اسلوب موجود ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2424 سے ماخوذ ہے۔