صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : " لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ ، وَسَعْدٍ " ، عَنْ حَدِيثِهِمَا " .معتمر کے والد سلیمان نے کہا: میں نے حضرت ابوعثمان سے سنا، کہا: ان ایام میں سے ایک میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو جنگ کے دوران میں آپ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ (یہ میں) ان دونوں کی بتائی ہوئی بات سے (بیان کر رہا ہوں)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ان بعض دنوں میں،جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے جنگ لڑی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت طلحہ اور سعد(رضوان اللہ عنھم اجمعین)کے سوا کوئی بھی نہیں رہاتھا،یہ بات انہوں نےخود ابوعثمان کو بتائی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6242]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جنگ اُحد میں جب تیر اندازوں کی غلطی سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی تو آپ کے ہمراہ قریش میں سے صرف حضرت طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما تھے اور سات انصاری تھے، ساتوں انصاری آپ کی حفاظت کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے تو پھر یہ دونوں قریشی ہی رہ گئے اور یہ دونوں عرب کے ماہر ترین تیر انداز تھے، انہوں نے تیر مار مار کر مشرک حملہ آوروں کو دور رکھا اور آپ کی حفاظت کرتے ہوئے ہی، حضرت طلحہ کا ہاتھ شل ہو گیا اور آپ نے انہیں چلتا ہوا، شہید قرار دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2414 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3723 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3723. حضرت ابوعثمان سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ بعض ان غزوات کے وقت جن میں خود رسول اللہ ﷺ نے شمولیت کی، نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ یہ بات خود ان کی بیان کردہ حدیث میں ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3723]
حدیث حاشیہ:
1۔
جنگ اُحد کا واقعہ کہ جب مسلمان بھگدڑ میں مبتلا ہوئے تو اس وقت صرف حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے علاوہ اور کوئی بھی آپ کے ہم رکاب نہ تھا۔
انھوں نے اپنی جان پر کھیل کر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی۔
2۔
اس حدیث میں حضرت طلحہ ؓ کی منقبت کا بیان ہے کہ آپ کس قدر بہادر اور جفاکش تھے۔
اس کی تفصیل آئندہ حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ کسی نے حضرت عثمان ؓ سے پوچھا: آپ کو اس واقعے کا علم کیسے ہوا؟ توانھوں نے بتایا کہ ان حضرات نے مجھے خود اس سے آگاہ کیا تھا۔
(فتح الباري: 105/7)
1۔
جنگ اُحد کا واقعہ کہ جب مسلمان بھگدڑ میں مبتلا ہوئے تو اس وقت صرف حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے علاوہ اور کوئی بھی آپ کے ہم رکاب نہ تھا۔
انھوں نے اپنی جان پر کھیل کر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی۔
2۔
اس حدیث میں حضرت طلحہ ؓ کی منقبت کا بیان ہے کہ آپ کس قدر بہادر اور جفاکش تھے۔
اس کی تفصیل آئندہ حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ کسی نے حضرت عثمان ؓ سے پوچھا: آپ کو اس واقعے کا علم کیسے ہوا؟ توانھوں نے بتایا کہ ان حضرات نے مجھے خود اس سے آگاہ کیا تھا۔
(فتح الباري: 105/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3723 سے ماخوذ ہے۔