حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، فِيَّ نَزَلَتْ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ سورة الأنعام آية 52 ، قَالَ : " نَزَلَتْ فِي سِتَّةٍ أَنَا ، وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ قَالُوا لَهُ تُدْنِي هَؤُلَاءِ " .

سفیان نے مقدام بن شریح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے (آیت) «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ» ”اور ان (مسکین مومنوں) کو خود سے دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں“ کے بارے میں روایت کی، کہا: یہ چھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے، مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: ان لوگوں کو اپنے قریب نہ کریں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اطْرُدْ هَؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا ، قَالَ : وَكُنْتُ أَنَا ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَبِلَالٌ ، وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52 .

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:"ان لوگوں کو بھگا دیجیے، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں۔(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا: (یہ لوگ تھے) میں ابن مسعود ہذیل کا ایک شخص بلال اور دواور شخص جن کا نام میں نہیں لو ں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سوآیا،آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا: بھی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی:" اور ان لوگوں کو دورنہ کیجیے جو صبح،شام اپنے رب کو پکا رتے ہیں صرف اس کی رضا چاہتے ہیں۔(انعام آیت نمبر 52)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2413
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2413 | سنن ابن ماجه: 4128

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2413 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:"ان لوگوں کو بھگا دیجیے، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں۔(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا: (یہ لوگ تھے) میں ابن مسعود ہذیل کا ایک شخص بلال اور دواور شخص جن کا نام میں نہیں لو ں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سوآیا،آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا: بھی، تب اللہ عزوجل نے یہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6241]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں، ان کی خواہش پر، ان کے ایمان لانے کی امید پر یہ خیال آیا کہ ان سرداروں کی آمد پر ان کو مجلس سے اٹھا دیں، تاکہ ان سرداروں کے ذریعہ اسلام پھیلانے میں سہولت پیدا ہو جائے اور یہ لوگ تو کسی اور وقت بھی حاضر ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی، اس لیے آپ کو مشرکوں کی ناز برداری سے روک دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2413 سے ماخوذ ہے۔