صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : " لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ " .سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دن میرے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ كِلَاهُمَا ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .لیث بن سعد اور عبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : فَنَزَعْتُ لَهُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ ، فَسَقَطَ فَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِ " .عامر بن سعد نے اپنے والد سے روایت کی، کہ جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام لیا۔ مشرکوں میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں!“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کے لیے (ترکش سے) ایک تیر کھینچا، اس کے پرَ ہی نہیں تھے۔ میں نے وہ اس کے پہلو میں مارا تو وہ گر گیا اور اس کی شرمگاہ (بھی) کھل گئی تو (اس کے اس طرح گرنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ مجھے آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنسے۔)
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
بنو اسد کے لوگ میرے متعلق حضرت عمر ؓ سے شکایت کرتے ہیں کہ اسے تو نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھنا آتی۔
حالانکہ میں تو قدیم الاسلام ہوں۔
اگر مجھے اب ان سے نماز سیکھنے کی ضرورت ہے تو میری سابقہ زندگی کے تمام اعمال برباد ہوگئے۔
حضرت سعد بن وقاص ؓ اپنی پہلی زندگی کے حالات بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت مسلمان ہوا جب مسلمانوں کو کھانے پینے کے لیے درخت کے پتوں کے سوا اور کچھ نہیں ملتا تھا۔
ایسے حالات میں قضائے حاجت کے وقت خشک پاخانہ آتا۔
کیونکہ درختوں کے پتے کھانے سے اونٹوں اور بکریوں کی طرح خشک پاخانہ ہی آتا ہے۔
بہر حال حضرت سعد بن وقاص ؓ اپنا قدیم الاسلام ہونا بیان کرتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ میرے متعلق قبیلہ بنو اسد کی شکایات مبنی برحقیقت نہیں ہیں 3۔
حضرت سعد بن وقاص مدینہ طیبہ سے دس میل دورمقام تحقیق میں فوت ہوئے۔
وہاں سے آپ کو مدینہ طیبہ لایا گیا۔
اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
مروان بن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
آپ کی تاریخ وفات محرم 55ھ بمطابق دسمبر674ءہے۔
آپ نے تراسی سال کی عمر پائی۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
فی الواقع حضرت سعد ؓ اس مبارک دعا کے مستحق تھے۔
ایک حدیث میں کے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ترکش سے تمام تیر نکال کر ان کے سامنے بکھیر دیے۔
اور فرمایا: ’’تم تیراندازی کرو۔
تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4055)
حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے علاوہ کسی اور صحابی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع نہیں کیا۔
(فتح الباري: 107/7)
حالانکہ اس سے پہلے ایک حدیث میں بیان کیا ہوا ہے کہ یہ اعزاز حضرت زبیر بن عوام ؓ کو بھی حاصل ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں۔
شاید حضرت علی ؓ کو اس بات کا علم نہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر کے لیے بھی ایسا ہی فرمایا تھا یا احد کے دن حضرت سعد کے علاوہ یہ اعزاز کسی اور کو نہ ملا ہو۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4055)
جنگ احد میں کافر چڑھے چلے آرہے تھے۔
انہوں نے ایسے تیر مارے کہ ایک کافر بھی آنحضرت ﷺ کے پاس نہ آسکا۔
کہتے ہیں کہ تیر بھی ختم ہو گئے اورایک کافر بالکل قریب آن پہنچاتو ایک تیر جس میں نری لکڑی تھی رہ گیا تھا۔
آپ نے سعد ؓ سے فرمایا یہی تیر مارو۔
سعد ؓ نے مارا اور وہ اس کافر کے جسم میں گھس گیا۔
آنحضرت ﷺ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی جو روایت میں مذکور ہے جس میں انتہائی ہمت افزائی ہے۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
احرق المسلمين: اس نے مسلمانوں کو بھون ڈالا، ان کا قتل عام کیا اس لیے جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا نشانہ لے کر، اس کو تیر مارا اور وہ چاروں شانے چت گر گیا تو آپ اس کے قتل و ذلت سے خوش ہو کر ہنس دئیے، اس کی شرم گاہ کے کھل جانے پر نہیں، سب کے سامنے رسوا ہونے پر خوش ہوئے۔
اس میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ابتدائی حالات بیان کیے ہیں کہ ہم نے پہلے دور میں کس قدر تکالیف کا سامنا کیا ہے۔ بوقت ضرورت (خصوصاً جب کوئی انسان ذلیل کرنے کی کوشش کر رہا ہو) اپنے خیر کے کام بتانا درست ہے، اس میں ریا کاری یا فخر مقصود نہیں ہونا چاہیے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ساتویں نمبر پر مسلمان ہوئے۔