صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ ، قَالَ : فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا ، قَالَ : فَأَبَى سَهْلٌ ، فَقَالَ لَهُ : أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ ، فَقُلْ : لَعَنَ اللَّهُ أَبَا التُّرَابِ ، فَقَالَ سَهْلٌ : مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ : أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ ، قَالَ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ فَغَاضَبَنِي ، فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِإِنْسَانٍ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ ؟ فَجَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ ، وَيَقُولُ : قُمْ أَبَا التُّرَابِ ، قُمْ أَبَا التُّرَابِ " .حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:کہ مدینہ میں مروان کی اولاد میں سے ایک شخص حاکم ہوا تو اس نے سیدنا سہل ؓ کو بلایا اور سیدنا علی ؓ کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا۔ سیدنا سہل ؓ نے انکار کیا تو اس نے انہیں کہا، اگر یہ نہیں مانتے ہو تو یوں کہو، ابوتراب پر اللہ کی لعنت تو سیدنا سہل ؓ نے کہا کہ سیدنا علی ؓ کو ابوتراب سے زیادہ کوئی نام پسند نہ تھا اور وہ اس نام کے ساتھ پکارنے والے شخص سے خوش ہوتے تھے۔ وہ شخص بولا کہ اس کا قصہ بیان کرو کہ ان کا نام ابوتراب کیوں ہوا؟ سیدنا سہل ؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمۃالزہراء ؓ کے گھر تشریف لائے تو سیدنا علی ؓ کو گھر میں نہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ وہ بولیں کہ مجھ میں اور ان میں کچھ باتیں ہوئیں اور وہ غصہ ہو کر چلے گئے اور یہاں نہیں سوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں؟ وہ آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ! علی مسجد میں سو رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی ؓ کے پاس تشریف لے گئے، وہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر ان کے پہلو سے الگ ہو گئی تھی اور (ان کے بدن سے) مٹی لگ گئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی پونچھنا شروع کی اور فرمانے لگے کہ اے ابوتراب! اٹھ۔ اے ابوتراب! اٹھ۔
تشریح، فوائد و مسائل
أين ابن عمك: عربی محاورہ کے مطابق، باپ کے رشتہ دار کو ابن العم سے تعبیر کیا گیا ہے، وگرنہ وہ حضور کے چچا زاد تھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد نہ تھے، چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک پہلو پر مٹی لگی ہوئی، اس لیے آپ نے پیار و محبت سے ان کو مانوس کرنے کے لیے ابو تراب کے الفاظ سے پکارا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔
مگر عرب لوگ باپ کے چچا کو بھی چچا کہہ دیتے ہیں اسی بنا پر آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے این ابن عمك کے الفاظ استعمال فرمائے۔
(1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوپہر کے وقت مسجد میں آرام کیا، اسی سے امام بخاری رحمہ اللہ یہ مسئلہ اخذ کیا کہ مسجد میں بھی قیلولہ جائز ہے۔
شارح صحیح بخاری امام مہلب رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس حدیث سے ضرورت کے بغیر بھی مسجد میں قیلولہ کرنا ثابت ہوتا ہے لیکن بعض دیگر علماء کی رائے ہے کہ سیاق حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں ضرورت کے بغیر سونا درست نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے مسجد کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 84/11) (2)
اس حدیث سے دور نبوی کے معاشرے کی ایک خوبصورت جھلک بھی نظر آتی ہے کہ جب کسی نوجوان کی اپنے گھر میں شکر رنجی ہو جاتی تو وہ کسی نیٹ کیفے، کلب، سینما یا تھیٹر کا رخ کرنے کی بجائے مسجد کا رخ کرتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ سکون واطمینان کی یہی جگہ ایک جگہ ہے۔
واللہ المستعان
1۔
یہ حدیث حضرت علی ؓ کی فضیلت اور ان کے بلند مرتبے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ خود چل کر انھیں لینے گئے اور ان کی کمر سے گردوغبار کو صاف کیا اور ان پر شفقت ومہربانی کرتے ہوئے انھیں راضی کرنا چاہا۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غضب ناک انسان سے نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ اس کا غصہ جاتارہے۔
3۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو پہلی مرتبہ اس کنیت سے یا دکیا،جبکہ حضرت عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ عسرہ میں حضرت علی ؓ ایک کھجور کے نیچے سوئے ہوئے تھے اور ان کی کمر پر مٹی لگی ہوئی تھی،رسول اللہ ﷺ نے انھیں بیدار کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے ابوتراب!اٹھو۔
‘‘ اگریہ واقعہ صحیح ہے تو رسول اللہ ﷺ نے پہلے بھی انھیں مذکور کنیت سے یاد کیاتھا۔
(فتح الباري: 93/7)
«. . . عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" إِنْ كَانَتْ أَحَبَّ أَسْمَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَيْهِ لَأَبُو تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ أَنْ يُدْعَى بِهَا، وَمَا سَمَّاهُ أَبُو تُرَابٍ إِلَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَاضَبَ يَوْمًا فَاطِمَةَ، فَخَرَجَ فَاضْطَجَعَ إِلَى الْجِدَارِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُهُ، فَقَالَ: هُوَ ذَا مُضْطَجِعٌ فِي الْجِدَارِ، فَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْتَلَأَ ظَهْرُهُ تُرَابًا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ وَيَقُولُ: اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ . . .»
”. . . سہل بن سعد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت ابوتراب سب سے زیادہ پیاری تھی اور اس کنیت سے انہیں پکارا جاتا تو بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ یہ کنیت ابوتراب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی۔ ایک دن فاطمہ رضی اللہ عنہا سے خفا ہو کر وہ باہر چلے آئے اور مسجد کی دیوار کے پاس لیٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے آئے اور فرمایا کہ یہ تو دیوار کے پاس لیٹے ہوئے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ کی پیٹھ مٹی سے بھر چکی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑتے ہوئے (پیار سے) فرمانے لگے ابوتراب اٹھ جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ: 6204]
باب اور حدیث میں مناسبت: امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں دو کنیتوں کا ذکر فرمایا ہے، جبکہ حدیث میں صرف ایک کنیت ”ابوتراب“ کا ذکر ہے، تو پھر باب سے حدیث کی مناسبت کس طرح سے ہوگی؟ دراصل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دو کنیتیں تھیں، ایک کنیت وہ جس کا ذکر امام بخاری رحمہ اللہ نے باب اور تحت الباب میں ذکر فرمائی، دوسری کنیت وہ جو مشہور تھی «أبوالحسن» ۔
علامہ کرمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «فان قلت ما وجه دلالته على الكنيتين و هو جزء الآخر من الترجمة، قلت: أبوالحسن هو الكنية المشهورة لعلي رضي الله عنه فلما كنى بأبي تراب صار ذا كنيتين.» (1)
”علامہ کرمانی رحمہ اللہ کی وضاحت سے یہ بات مزید واضح ہوئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پہلی کنیت ابوالحسن تھی، جس کنیت سے وہ معروف تھے، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابوتراب رکھی تو آپ کی دو کنیتیں ہو گئیں یہی مقصود ہے امام بخاری رحمہ اللہ کا ترجمۃ الباب سے۔“
مولانا عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «ذكر البخاري فى الباب حديث سهل، ومطابقته للترجمة ظاهرة، لأن عليا كانت له كنية أخرى، وهى أبوالحسن، وكنّاه النبى صلى الله عليه وسلم أبا تراب.» (2)
”امام بخاری رحمہ اللہ نے اصل باب میں سہل رحمہ اللہ سے حدیث نقل فرمائی جس کی مناسبت ظاہر ہے، کیوں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی کنیت پہلی ابولحسن کے نام سے معروف تھی اور دوسری کنیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ابوتراب۔“
لہذا یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہوگی۔
اس طرح دو کنیت رکھنا بھی جائز ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو محبت تھی اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ خود بنفسہ ان کو راضی کر کے گھر لانے کے لئے تشریف لے گئے جب کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو کر وہ باہر چلے گئے تھے۔
ایسی باہمی خفگی میاں بیوی میں بسا اوقات ہو جاتی ہے جو معیوب نہیں ہے۔
چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کمر میں کافی مٹی لگ گئی تھے۔
اس لئے آپ نے پیار سے ان کو ابو تراب (مٹی کا باوا)
کنیت سے یاد فرمایا (صلی اللہ علیہ وسلم)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت چار سال اور نو ماہ ہے۔
17 رمضان 40ھ بروز ہفتہ ایک خارجی ابن ملجم نامی کے حملہ سے آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔
إنا للہ وإنا إلیه راجعون رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے 3 رمضان11ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ ماہ بعد انتقال فرمایا۔
إنا للہ الخ غفراللہ لھا (آمین)
۔
(1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پہلی کنیت ابو الحسن مشہور تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں ابو تراب کنیت سے پکارا تو بہت خوش ہوئے۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ بیک وقت دو کنیت رکھنا جائز ہے۔
چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کمر پر نیچے لیٹنے کی وجہ سے کافی مٹی لگ چکی تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار و شفقت سے ابو تراب (مٹی کا باوا)
کنیت سے یاد فرمایا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت تھی۔
یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی کی شکر رنجی دور کرنے کے لیے خود تشریف لے گئے، جب گھر میں نہ ملے تو تلاش کرنے کے لیے خود مسجد میں گئے اور انہیں راضی کر کے گھر لائے۔
آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ازراہِ محبت لفظ ابوتراب سے بلایا بعد میں یہی حضرت علی ؓ کی کنیت ہوگئی اورآپ اپنے لیے اسے بہت پسند فرمایا کرتے تھے۔
حضرت علی ؓ آنحضرت ﷺ کے چچازاد بھائی تھے، مگرعرب کے محاورہ میں باپ کے عزیزوں کو بھی چچا کا بیٹا کہتے ہیں۔
آپ نے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ ؓ کے دل میں حضرت علی ؓ کی محبت پیدا کرنے کے خیال سے اس طرز سے گفتگو فرمائی۔
میاں بیوی میں گاہے گاہے باہمی ناراضگی ہونا بھی ایک فطری چیز ہے۔
مگر ایسی خفگی کو دل میں جگہ دینا ٹھیک نہیں ہے۔
اس سے خانگی زندگی تلخ ہوسکتی ہے۔
اس حدیث سے مسجد میں سونے کا جواز نکلا۔
یہی حضرت امام بخاریؒ کا مقصدہے جس کے تحت آپ نے اس حدیث کو یہاں ذکر فرمایا۔
جو لوگ عام طور پر مسجدوں میں مردوں کے سونے کو ناجائز کہتے ہیں، ان کا قول صحیح نہیں جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں سونے کا جواز صرف ان لوگوں کے لیے ہی نہیں جو بے گھر اور مسافر ہوں بلکہ جن کے پاس معقول جائے سکونت ہو وہ بھی اگرکسی مصلحت کے پیش نظر مسجد میں سونا چاہیں تواس میں تنگی نہیں ہے، کیونکہ حضرت علی ؓ کا گھر بار موجود تھا، اس کے باوجود وہ مسجد میں آکر سوگئے۔
رسول اللہ ﷺ نے انھیں اس موقع پر مسجد میں سونے سے منع نہیں فرمایا بلکہ ایک مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی دلجوئی فرمائی۔
ممکن ہے امام بخاری ؒ حدیث علی اس لیے لائے ہوں کہ گھر بار والے حضرات کو مستقل طور پر مسجد میں شب باشی نہیں کرنی چاہیے، البتہ کسی ضرورت کی وجہ سے عارضی طور پر دوپہر کے وقت آرام کرنے میں چنداں حرج نہیں۔
2۔
چونکہ زمین پر لیٹنے کی وجہ سے حضرت علی ؓ کے بدن پر مٹی کچھ زیادہ ہی لگ گئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے خود اپنےدست مبارک سے اس مٹی کو صاف کیا، اس مناسبت سے آپ نے حضرت علی ؓ کو ’’ابوتراب‘‘ کے لقب سے یاد کیا۔
عربی زبان میں تراب مٹی کوکہتے ہیں۔
حضرت علی ؓ کو اگر کوئی اس کنیت سے یاد کرتا تو بہت خوش ہوتے تھے۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6204)
رسول اللہ ﷺ اس انداز گفتگو سے اس ناگواری کو دورکرنا چاہتے تھے جو حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے درمیان درآئی تھی، نیز اس واقعے سے رشتہ مصاہرت میں مدارات کی اہمیت کا بھی پتہ چلتاہے۔
3۔
حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ کے چچازاد نہ تھے، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا ابوطالب کے بیٹے تھے۔
اس میں عرب کے محاورے کےمطابق باپ کے عزیز رشتے دارکو چچازاد کہاگیاہے۔
رسول اللہ ﷺ اس قریبی رشتے داری کے حوالے سے حضرت فاطمہ ؓ کو اپنے خاوند سے حسن سلوک اور نرم رویہ اختیار کرنے کی طرف توجہ دلانا چاہتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کہ تیرے چچازاد، یعنی شوہر نامدار کہاں ہیں؟عرض کیا: وہ مسجد میں ہیں۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم حدیث: 3703)
پھر آپ نے راوی حدیث حضرت سہل بن سعد ؓ کو بھیجا کہ وہ مسجد میں ان کا پتہ کرکے آئیں کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہیں؟کیونکہ اس وقت حضرت سہل کے علاوہ اور کوئی دوسراشخص آپ کے ہمراہ نہیں تھا۔
وہ گئے تو دیکھا کہ حضرت علی ؓ دوپہر کے وقت مسجد کی دیوار کے سائے تلے لیٹے ہوئے ہیں۔
(فتح الباري: 693/1)
اس حدیث سے اسلامی معاشرے کے خدوخال کا پتہ چلتا ہے کہ اس پاکیزہ ماحول میں اگرخاوند کی بیوی سے کسی بات پر چپقلش ہوجاتی تو بیوی کو مارپیٹ کر گھرسے نکالنے کے بجائے خاوند خود ہی’’قہردرویش برجان درویش‘‘ وہاں سے کنارہ کش ہوجاتا۔
وہ کسی ہوٹل، پارک، ویڈیو سنٹر، انٹرنیٹ کلب یادیگر تفریحی مقامات کا رخ نہ کرتا بلکہ مسجد ہی کو اپنی ’’احتجاج گاہ‘‘ قراردے لیتا۔
اللہ تعالیٰ ان سےراضی ہواور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔
آمین!