صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ ، يَرْكُزُ بِعُودٍ مَعَهُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ ، إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ ، قَالَ : فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تَكُونُ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، قَالَ : فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : وَقُلْتُ : الَّذِي قَالَ : فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَبْرًا أَوِ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ " .عثمان بن غیاث نے ابوعثمان نہدی سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے پاس جو لکڑی تھی اس (کی نوک) کو پانی اور مٹی کے درمیان مار رہے تھے کہ ایک شخص نے (باغ کا دروازہ) کھولنے کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھول دو اور اس (آنے والے) کو جنت کی خوشخبری سنا دو۔“ (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی، کہا: پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھول دو اور اسے (بھی) جنت کی خوشخبری سنا دو۔“ میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی، اس کے بعد ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی، کہا: تو آپ (سیدھے ہو کر) بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”دروازہ کھولو اور فتنے پر جو (برپا) ہوگا، انہیں جنت کی خوشخبری دے دو۔“ کہا: میں گیا تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ کہا: میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی اور آپ نے جو کچھ فرمایا تھا، انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ صبر عطا فرما اور اللہ ہی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفَظَ الْبَابَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ .حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ کی حفاظت کرنے کاحکم دیا،آگے مذکورہ بالاروایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " لَأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَكُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا ، قَالَ : فَجَاءَ الْمَسْجِدَ ، فَسَأَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : خَرَجَ وَجَّهَ هَاهُنَا ، قَالَ : فَخَرَجْتُ عَلَى أَثَرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّى دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ ، قَالَ : فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ ، وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ ، وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ ، قَالَ : فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ ، فَقُلْتُ لَأَكُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَدَفَعَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : عَلَى رِسْلِكَ ، قَالَ : ثُمَّ ذَهَبْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَأَقْبَلْتُ حَتَّى قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ : ادْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي ، فَقُلْتُ : إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ يُرِيدُ أَخَاهُ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : عَلَى رِسْلِكَ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجِئْتُ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : أَذِنَ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَجَلَسْتُ ، فَقُلْتُ : إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يَعْنِي أَخَاهُ يَأْتِ بِهِ ، فَجَاءَ إِنْسَانٌ فَحَرَّكَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَقُلْتُ : عَلَى رِسْلِكَ ، قَالَ وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُهُ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : ادْخُلْ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُكَ ، قَالَ : فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ ، قَالَ شَرِيكٌ : فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ : فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ " .یحییٰ بن حسان نے کہا: ہمیں سلیمان بن بلال نے شریک بن ابی نمر سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: مجھے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر باہر نکلے۔ سیدنا ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آج میں دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رہوں گا۔ کہتے ہیں کہ پھر مسجد میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ باہر اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان پر چلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لوگوں سے پوچھتا جاتا تھا۔ چلتے چلتے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام اریس پر باغ میں گئے ہیں۔ میں دروازے کے قریب بیٹھ گیا جو کھجور کی ڈالیوں کا بنا ہوا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کر چکے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اریس کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں اور دونوں پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دی ہیں۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر لوٹ کر دروازے کے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے (دل میں) کہا کہ میں آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان، چوکیدار رہوں گا۔ اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازے کو دھکیلا۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوبکر ہوں، میں نے کہا ذرا ٹھہرو۔ پھر میں گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو آنے دو اور جنت کی خوشخبری دو۔“ میں آیا اور سیدنا ابوبکر سے کہا کہ اندر داخل ہو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے۔ پس سیدنا ابوبکر داخل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف اسی منڈیر پر دونوں پاؤں لٹکا کر پنڈلیاں کھول کر جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، بیٹھ گئے۔ میں لوٹ آیا اور پھر بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی (عامر) کو گھر میں وضو کرتے چھوڑ آیا تھا، میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو فلاں (یعنی) میرے بھائی کی بھلائی منظور ہے تو اس کو یہاں لے آئے گا۔ اتنے میں (کیا دیکھتا ہوں کہ) کوئی دروازہ ہلانے لگا ہے۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ جواب آیا کہ عمر بن خطاب۔ میں نے کہا ٹھہر جا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، سلام کیا اور کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو۔“ پس میں گیا اور کہا کہ اندر داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف اسی منڈیر پر بیٹھ گئے اور دونوں پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیے۔ پھر میں لوٹ آیا اور (دروازے پر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ کو فلاں آدمی (عامر) کی بھلائی منظور ہے تو اس کو بھی لے آئے گا۔ اتنے میں ایک اور آدمی نے دروازہ ہلایا۔ میں نے کہا کہ کون ہے؟ جواب دیا کہ عثمان بن عفان۔ میں نے کہا کہ ٹھہر جا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو مگر وہ ایک مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔“ میں آیا اور ان سے کہا کہ داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے مگر ایک بلا کے ساتھ جو تم پر آئے گی۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک حصہ بھر گیا ہے، پس وہ دوسرے کنارے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ شریک نے کہا کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ میں نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی۔ (ویسا ہی ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حجرہ میں جگہ نہ ملی، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بقیع میں دفن ہوئے۔)
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ هَاهُنَا ، وَأَشَارَ لِي سُلَيْمَانُ إِلَى مَجْلِسِ سَعِيدٍ نَاحِيَةَ الْمَقْصُورَةِ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَلَكَ فِي الْأَمْوَالِ فَتَبِعْتُهُ ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ دَخَلَ مَالًا فَجَلَسَ فِي الْقُفِّ ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ حَسَّانَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ سَعِيدٍ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ .سعید بن عفیر نے کہا: مجھے سلیمان بن بلال نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس جگہ (اور سلیمان نے سعید بن مسیب کے بیٹھنے کی جگہ کی جانب اشارہ کیا) حدیث سنائی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے نکلا۔ میں نے دیکھا کہ آپ (لوگوں کے) باغات کے اندر سے گزر کر گئے ہیں۔ میں آپ کے پیچھے ہو لیا، میں نے دیکھا کہ آپ ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ہیں، کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر انہیں کنویں میں لٹکا لیا ہے، پھر یحییٰ بن حسان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور (اس میں) حضرت سعید بن مسیب کا قول: ”میں نے ان کی قبریں مراد لیں“ بیان نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : فَتَأَوَّلْتُ ذَلِكَ قُبُورَهُمُ اجْتَمَعَتْ هَاهُنَا ، وَانْفَرَدَ عُثْمَانُ .محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے سعید بن مسیب سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضرورت کے لیے مدینہ کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، میں آپ کے پیچھے پیچھے نکل پڑا، اور سلیمان بن بلال کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ بیان کیا کہ ابن مسیب نے کہا: میں نے ان سے ان کی قبریں مراد لیں (جو) یہاں اکھٹی ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی الگ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
البلوي اور بلية: مصیبت، آزمائش۔
آپ نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آخر خلافت میں بڑی مصیبت پیش آئی لیکن انہوں نے صبر کیا اور شہید ہوئے۔
ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لیے دروازہ سب سے پہلے کھولا گیا۔
پہلے آپ کا نام عبدالکعبہ تھا۔
اسلام لانے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام عبداللہ رکھ دیا لقب صدیق اور کنیت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی خلافت دو سال تین ماہ اور دس دن رہی۔
وفات63 سال کی عمر میں 21جمادی الثانی 13ھ میں بخار سے واقع ہوئی۔
7تاریخ جمادی الثانی سے آپ کو بخار آنا شروع ہوا تھا۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
عمر رضی اللہ عنہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو لولو فیروز ایرانی کے ہاتھ سے شہید ہوئے۔
اس وقت ان کی عمر63 سال کی تھی 27 ذی الحجہ23ھ میں بدھ کے دن انتقال فرمایا رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
آپ کی مدت خلافت ساڑھے دس سال سے کچھ زیادہ ہے۔
حضرت عثمان کے زمانہ میں کچھ منافقوں نے بغاوت کی۔
آخر آپ کو 18ذی الحجہ35ھ میں ان ظالموں نے بہت بری طرح سے شہید کر دیا۔
إنا للہ و إنا إلیه راجعون۔
(رضي اللہ عنهم)
(1)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بہت بڑا معجزہ بیان ہوا ہے کیونکہ آپ نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی خلافت کے آخری دور میں کڑی آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا لیکن انہوں نے صبر کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس عنوان کی فقاہت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پانی یا کیچڑ میں لکڑی مارنا کوئی فضول حرکت نہیں کیونکہ یہ کام وہ عقلمند کرتا ہے جو کسی چیز میں غوروفکر کر رہا ہو۔
بعض دفعہ انسان سوچ بچار کے موقع پر بھی فضول حرکت کرتا ہے جیسا کہ انسان کے ہاتھ میں چھری ہو اور وہ کسی لکڑی کو کریدنا شروع کر دے، اس طرح اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
ایسی حرکت بے فائدہ اور فضول شمار ہو گی۔
(فتح الباري: 732/10)
حضرت ابوبکر اور عمر ؓ تو آنحضرت ﷺ کے پاس دفن ہوئے اور حضرت عثمانؓ آپ کے سامنے بقیع غرقد میں۔
سعید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ابوبکر وعمر ؓ آپ کے دائیں بائیں دفن ہوں گے کیونکہ ایسا نہیں ہے۔
حضرت ابوبکرؓکی قبر آنحضرتﷺکی بائیں طرف ہے اور حضرت عمر ؓ کی قبر حضرت ابوبکر کے بائیں طرف ہے۔
آنحضرت ﷺ کی ان مبارک نشانیوں کی بنا پر متعلقہ جملہ حضرات صحابہ کرامؓ کا جنتی ہونا یقینی امر ہے۔
پھر بھی امت میں ایک ایسا گروہ موجود ہے جو حضرات شیخین کرام کی توہین کرتا ہے، اس گروہ سے اسلام کو جو نقصان پہنچا ہے وہ تاریخ ماضی کے اوراق پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، حضرت عثمان غنی ؓکی بابت آپ نے ان کی شہادت کی طرف اشارہ فرمایا جو خدا کے ہاں مقدر تھی اور وہ وقت آیا کہ خود اسلام کے فرزندوں نے حضرت عثمان ؓجیسے جلیل القدر خلیفہ راشد کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔
آخر ان کو شہید کرکے دم لیا۔
1390ھ کے حج کے موقع پر بقیع غرقد مدینہ میں جب حضرت عثمان کی قبر پر حاضر ہوا تو دیر تک ماضی کے تصورات میں کھویا ہوا آپ کی جلالت شان اور ملت کے بعض لوگوں کی غداری پر سوچتا رہا۔
اللہ پاک ان جملہ بزرگوں کو ہمارا سلام پہنچائے اور قیامت کے دن سب سے ملاقات نصیب کرے۔
آمین۔
مذکورہ اریس مدینہ کے ایک مشہور باغ کانام تھا۔
اس باغ کے کنویں میں آنحضرت ﷺکی انگوٹھی جو حضرت عثمان ؓ کی انگلی میں تھی۔
گرگئی تھی جو تلاش بسیار کے باوجود نہ مل سکی۔
آج کل یہ کنواں مسجد قبا کے پاس کھنڈر کی شکل میں خشک موجود ہے۔
اسی جگہ یہ باغ واقع تھا۔
1۔
اریس،مدینہ طیبہ ایک مشہور باغ ہے جو قباء کے قریب واقع ہے۔
اسی کنویں میں رسول اللہ ﷺ کی وہ انگوٹھی گری جسے حضرت عثمان ؓ نے پہن رکھا تھا۔
2۔
اس حدیث میں خلفائے ثلاثہ کی فضیلت کا واضح بیان ہے اور ان میں حضرت ابوبکر ؓ افضل ہیں کیونکہ ان کو جنت کی بشارت پہلے دی گئی جبکہ ان کی نشست بھی رسول اللہ ﷺکے دائیں جانب تھی۔
ایک روایت کے مطابق جب حضرت عثمان ؓ آئے تو آپ کچھ دیر خاموش رہے،پر انھیں اندر آنے کی اجازت اور مصیبت آنے پر جنت کی بشارت دی۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3695)
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بشارت سن کر اللہ کا شکر اد کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: اللہ المستعان۔
اس حدیث میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق واضح پیش گوئی ہے کہ وہ ایک سنگین فتنے کی زد میں آئیں گے۔
مسند احمد میں صراحت ہے کہ آپ کو ظلم کے طور پر شہید کیا جائے گا۔
(مسند أحمد: 115/2)
چنانچہ یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
3۔
حضرت سعید بن مسیب کی کمال دامائی تھی،حقیقت میں ایسا ہوا ہے۔
حضرت ابوبکرؓ تورسول اللہﷺکے پاس دفن ہوئے اور حضرت عثمان ؓ آپ کے سامے بقیع غرقد میں ہیں۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت ابوبکرؓ آپ کے دائیں جانب اور حضرت عمر ؓآپ کے بائیں جانب ہوں گے کیونکہ ایسا امرواقعہ کے خلاف ہے،چنانچہ انھوں نے ایک دوسری روایت میں وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد ہے کہ شیخین کی قبریں اکٹھی اور حضرت عثمان ؓ کی قبر الگ ہوگی۔
(صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7097)
باب کا مطلب یہیں سے نکلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کی نسبت یہ فرمایا کہ ایک بلا یعنی فتنے میں مبتلا ہوں گے اور یہ فتنہ بہت بڑا تھا اسی کی وجہ سے جنگ جمل اور جنگ صفین واقع ہوئی جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔
1۔
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے جنت کی بشارت کے ساتھ ایک آزمائش کا بھی ذکر کیا جس سے وہ دوچار ہوں گے۔
واقعی وہ آزمائش سمندر کی طرح موجزن تھی۔
اگرچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شہید ہوئے تھے لیکن انھیں ایک بدبخت نے نماز فجر کے دوران میں دھوکے سے شہید کیا لیکن انھیں وہ آفتیں نہ آئیں جن سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دوچار ہونا پڑا،چنانچہ ایک سازشی گروہ نے محض تخریب وانتشار کی خاطر آپ پر گھناؤ نے الزامات لگائے۔
آپ کو اقرباء پروری، بیت المال کے بے جا استعمال کا طعنہ دیا، نیز بئر رومہ جسے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود خرید کرمسلمانوں کے لیے وقف کیا تھا، اس کا پانی آپ کے لیے بند کر دیا۔
مسجد نبوی جس کی توسیع آپ نےاپنی جیب خاص سے کی تھی، اس میں نماز پڑھنے سے آپ کو روک دیا، پھر یہ بھی مطالبہ کیا کہ خود خلافت سے دستبردار ہو جائیں۔
حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا تھا کہ لوگ تم سے خلعت امامت اتارنا چاہیں گے ان کے کہنے پر یہ اقدام نہ کرنا۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3705)
2۔
اس سازشی گروہ نے اس حد تک ظلم وزیادتی کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں گھس گئے اور آپ کے اہل خانہ کو بھی زخمی کیا۔
ایسے حالات میں آپ کی مظلومانہ شہادت عمل میں آئی۔
کہتے ہیں کہ شہادت کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔
چنانچہ قدرت نے پھر ان ظالموں سے انتقام لیا جس کی تفصیل تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔
بہرحال حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مظلومانہ شہادت کا فتنہ بہت بڑا فتنہ تھا۔
اس کی کوکھ سے جنگ صفین اور جنگ جمل نے جنم لیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان شہید ہوئے اور اس شہادت نے اُمت مسلمہ کو ہلاک کر دیا۔
واللہ المستعان۔
آپ نے حضرت عثمان ؓ کی شرم وحیا کا خیال کرکے گھٹنا ڈھانک لیا تھا۔
اگر وہ ستر ہوتا تو حضرت ابوبکر و عمر ؓ کے سامنے بھی کھلا نہ رکھتے۔
1۔
مذکورہ حدیث متعدد مرتبہ پہلے بیان ہو چکی ہے۔
اس میں حضرت عثمان ؓ کے متعلق ایک واضح فضیلت کا ذکر ہے کہ آپ جنتی ہیں لیکن آپ نے یہ بشارت دینے میں کچھ توقف فرمایا کہ میں پورے واقعے کی اطلاع کروں یا صرف دخول جنت کی بشارت سناؤں جب پورا واقعہ سنانے کی پختہ رائے ہوگئی تو دونوں معاملات کی خبر دی تاکہ آپ مصیبت پر صبر کریں۔
2۔
اس حدیث کے آخر میں حضرت عاصم احول کے اضافے کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو دیکھ کر اپنی ران ڈھانپ لی۔
صحیح مسلم کی روایت میں ران ڈھانپنے کی وجہ بیان فرمائی: ’’کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
‘‘ (صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6209۔
(2401)
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عثمان بہت حیادار انسان ہیں اگر مجھے اس حالت میں پاتے تو اپنی حاجت پوری نہ کرپاتے۔
‘‘ (صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6220۔
(2402)
حضرت عثمان ؓ کو حیا ہی مناسب تھی کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے داماد تھے اور داماد اپنے سسر سے حیا کیا کرتے ہیں اس کے علاوہ حیا داری آپ کی خاص صفت تھی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اشارہ فرمایاہے۔
’’ان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
‘‘ واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث میں حضرت عمر ؓ کے متعلق جنت کی بشارت ہے۔
یہ آپ کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت عمر ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔
2۔
اس حدیث سے متعلقہ دیگرمباحث پہلے بیان ہوچکے ہیں۔
1۔
ایک روایت کے مطابق حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دروازے پر بیٹھنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
(صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7097)
جبکہ اس روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا؟ ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے کیونکہ ابتدا میں انھوں نے خود اس چوکیداری کو اپنے ذمے لیا تھا لیکن جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذمے داری انھیں سونپ دی تھی۔
2۔
بہر حال امام بخاری نے اس حدیث سے خبر واحد کی حجیت کو ثابت کیا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکیلے ان حضرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مطلع کرتے تھے اور یہ قابل قدر حضرات اس پر یقین اور اعتماد کرتے تھے۔
(1)
وجه ههنا: اس طرف کا رخ کر لیا۔
(2)
توسط قفها: منڈیر کے درمیان بیٹھ گئے۔
(3)
دلاهما: ادلي کے معنی میں ہے، دونوں کو لٹکا لیا۔
(4)
لاكونن بواب رسول الله: حضرت ابو موسیٰ اشعری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باغ میں داخل ہوتے جا ملے تو آپ نے انہیں دروازہ پر بیٹھنے کا حکم دیا، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
(5)
امر بحفظ الباب: آپ نے اسے دروازے کی نگرانی کا حکم دیا، اس سے آپ کا مقصد یکسوئی سے قضائے حاجت سے فراغت حاصل کرنا تھا، جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو گئے اور ابو موسیٰ آپ کے پاس آ گئے تو پھر اپنی مرضی سے واپس جا کر دربان بن بیٹھے، اس لیے بعض روایات میں ہے۔
(6)
ولم يامرني: آپ نے مجھے حکم نہیں دیا تھا۔
(7)
علي رسلك: ذرا ٹھہریے، کچھ توقف کیجئے۔
(8)
دلي رجليه في البئر: ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں تاکہ آپ اسی حالت میں بیٹھے رہیں، اگر وہ اپنے پاؤں نہ لٹکاتے تو شاید آپ اس حالت میں رہنا گوارا نہ فرماتے۔
(9)
ان يرد الله بفلان خيرا: اگر اللہ کو فلاں کی بھلائی منظور ہو گی اور ابو موسیٰ اشعری نے، جب یہ دیکھا کہ آپ کی حاضری کی اجازت طلب کرنے والے کو جنت کی بشارت دے رہے ہیں تو ان کے دل میں یہ تمنا اور خواہش پیدا ہوئی کہ ان کا بھائی بھی آ جائے، تاکہ اسے بھی یہ سعادت و بشارت حاصل ہو سکے۔
(10)
مع بلوي تصيبه: ان کو مصائب سے گزرنا پڑے گا، اس میں ان مصائب اور مشکلات کی طرف اشارہ ہے، جن سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی خلافت کے آخری سالوں میں گزرنا پڑا اور آخر مظلوم شہید ٹھہرے، جیسا کہ ایک دوسری روایت میں آپ نے حضرت عثمان کے گزرنے پر فرمایا تھا: يقتل فيها هذا يومئذ ظلما: اس فتنہ میں یہ ظلماً شہید ہوں گے۔
(تکملہ ج 5 ص 100)
۔
(11)
جلس وجاههم: ان کے سامنے بیٹھ گئے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جگہ نہ ملی، اس سے حضرت سعید بن المسیب نے یہ بات کہی کہ ان تینوں کی قبریں اکٹھی ہوئیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو الگ دفن کیا گیا۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: " ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے "، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: " انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو "، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3710]
وضاحت:
1؎:
اس سے آپﷺ کا اشارہ اس حادثہ کی طرف تھا جس سے عثمان رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے آخری دور میں دوچار ہوئے پھر جام شہادت نوش کیا، نیز اس حدیث سے ان تینوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اوریہ کہ ان کے درمیان خلافت میں یہی ترتیب ہو گی۔