صحيح مسلم
كتاب فضائل الصحابة— صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
باب مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2399
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ : أَخْبَرَنَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : " وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ ، وَفِي الْحِجَابِ ، وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ " .نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی، مقام ابراہیم (کو نماز کی جگہ بنانے) میں، حجاب میں اور بدر کے قیدیوں میں (کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔)“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےفرمایا:میں نے تین باتیں اپنے رب کی منشا کے مطابق کیں،مقام ابراہیم کے بارے میں،پردہ کے بارے میں اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6206]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
وافقت ربي في ثلاث: تین واقعات میں، میں نے اپنے رب کی موافقت کی، یعنی اللہ کا حکم میری مرضی اور منشا کے مطابق نازل ہوا، چونکہ ان تین واقعات کے بارے میں، اللہ کا حکم یہی تھا، اگرچہ حکم بعد میں نازل ہوا، اس لیے حضرت عمر نے کہا، میری رائے اللہ کے حکم کے مطابق نکلی یا اللہ کے حکم کا تو پتہ نہیں تھا، لیکن ادب و احترام اور اللہ کی عظمت کے پیش نظر یہ کہا، میں نے موافقت کی، یہ نہ کہا، اللہ کا حکم میری رائے کے مطابق اترا اور تین میں حصر نہیں ہے، کیونکہ حضرت عمر کی موافقات کی تعداد بیس سے زائد ہے، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا اس موضوع پر مستقل رسالہ ہے۔
وافقت ربي في ثلاث: تین واقعات میں، میں نے اپنے رب کی موافقت کی، یعنی اللہ کا حکم میری مرضی اور منشا کے مطابق نازل ہوا، چونکہ ان تین واقعات کے بارے میں، اللہ کا حکم یہی تھا، اگرچہ حکم بعد میں نازل ہوا، اس لیے حضرت عمر نے کہا، میری رائے اللہ کے حکم کے مطابق نکلی یا اللہ کے حکم کا تو پتہ نہیں تھا، لیکن ادب و احترام اور اللہ کی عظمت کے پیش نظر یہ کہا، میں نے موافقت کی، یہ نہ کہا، اللہ کا حکم میری رائے کے مطابق اترا اور تین میں حصر نہیں ہے، کیونکہ حضرت عمر کی موافقات کی تعداد بیس سے زائد ہے، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا اس موضوع پر مستقل رسالہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2399 سے ماخوذ ہے۔