حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَبَكَى عُمَرُ ، وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَيْكَ أَغَارُ ؟ .

یونس نے کہا: ابن شہاب نے انہیں سعید بن مسیب سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت ایک محل کے جانبی حصے میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا (محل) ہے؟ انہوں نے بتایا یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔ مجھے عمر کی غیرت یاد آئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس آگیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے جبکہ ہم اس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟

وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

یہی روایت امام صاحب تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2395
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3242 | صحيح البخاري: 3680 | صحيح البخاري: 5227 | صحيح البخاري: 7023 | صحيح البخاري: 7025 | سنن ابن ماجه: 107

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3680 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3680. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے جب آپ نے فرمایا: ’’میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا اچانک وہاں ایک عورت کو محل کے پاس وضو کرتے دیکھا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟فرشتوں نے جواب دیا: یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ میں ان کی غیرت کا خیال کرتے ہوئے واپس آگیا۔‘‘ حضرت عمر فاروق رو پڑے اور کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!کیا میں نے آپ کے خلاف غیرت کرنا تھی؟[صحيح بخاري، حديث نمبر:3680]
حدیث حاشیہ:

یہ دونوں احادیث حضرت عمر ؓ کی عظیم منقبت پر مشتمل ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بحالت خواب جنت میں ان کا محل دیکھا،جس میں ان کی بیوی وضو کررہی تھی۔
یہ وضو ان کے حسن کو دوبالا کرنے کے لیے تھا کیونکہ جنت میں شرعی احکام کی بجاآوری کا سلسلہ نہیں ہے۔

حدیث جابر دراصل تین احادیث پرمشتمل ہے۔
اس میں رمیصاء نامی خاتون کا ذ کر ہے جو حضرت ابوطلحہ ؓ کی بیوی،حضرت انس ؓ کی والدہ اور رسول اللہ ﷺ کی رضاعی خالہ ہیں۔
ان کا نام سہلہ اور کنیت ام سلیم ہے۔

حضرت عمر ؓ کا رونا خوشی ومسرت کی وجہ سے تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی وجہ سے تو ہمیں ہدایت اور یہ مقام بلند عنایت ہواتوکیا میں نے آپ کی وجہ سے غیرت کرنا تھی۔
(فتح الباري: 57/7، 85)

اس حدیث میں حضرت ام سلیم ؓ کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور وہ عبادات میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3680 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7023 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7023. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا: میں ایک وقت سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں خود کو جنت میں دیکھا۔ وہاں ایک عورت ایک محل کے کونے میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ بتایا کہ یہ محل عمر بن خطاب کا ہے، مجھے عمر کی غیرت یاد آگئی تو میں وہاں سےلوٹ آیا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کہا: یہ سن کر حضرت عمر ؓ رو پڑے، انہوں نےکہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کرتا؟۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7023]
حدیث حاشیہ: آپ تو تمام مومنین کے ولی اور مثل والد بزرگوار کے ہیں۔
دوسرے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عزیز بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آپ کے نکاح میں تھیں۔
داماد اپنے بیٹے کی طرح عزیز ہوتا ہے، اس پر کون غیرت کرے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس بیوی کا نام ام سلیم تھا، وہ اس وقت تک زندہ تھیں۔
بہر حال خواب میں محل دیکھنا مبارک ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7023 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3242 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3242. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: ’’میں نے بحالت نیند خود کو جنت میں دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک عورت محل کے گوشے میں وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ مجھے ان کی غیرت کا خیال آیا تو میں پیچھے کی طرف واپس آگیا۔ ’’اس پر حضرت عمر ؓرو پڑے اور عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3242]
حدیث حاشیہ: ان جملہ احادیث کو یہاں لانے سے حضرت امام کا مقصد جنت اور اس کی نعمتوں کا ثابت کرنا ہے نیز یہ بھی کہ جنت محض کوئی خواب و خیال کی چیز نہیں ہے بلکہ وہ ایک ثابت اور برحق چیز ہے جس کو اللہ پاک پیدا کرچکا ہے اور اس کی ساری مذکورہ نعمتیں اپنا وجود رکھتی ہیں۔
اس سلسلہ میں حضرت امام نے ان مختلف نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے جنت کے مختلف کوائف پر استدلال فرمایا ہے۔
جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود جنت کے بارے میں کسی شیطانی وسوسہ میں گرفتار ہوں، ان کو فوراً توبہ کرکے اللہ اور رسول ﷺ کی فرمودہ باتوں پر ایمان ویقین رکھنا چاہئے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بہشت موجود ہے، پیدا ہوچکی ہے۔
وہاں ہر ایک جنتی کے مکانات اور سامان وغیرہ سب تیار ہیں۔
حضرت عمرؓ کا قطعی جنتی ہونا بھی اس حدیث سے اور بہت سی حدیثوں سے ثابت ہوا۔
حضرت عمر ؓخوشی کے مارے رو دئیے اور یہ جو کہا کہ کیا میں آپ پر غیرت کروں گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تو میرے بزرگ ہیں۔
میرے مربی ہیں۔
میری بیویاں سب آپ کی لونڈیاں ہیں۔
غیرت تو برابر والے سے ہوتی ہے نہ کہ مالک اور مربی سے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3242 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3242. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: ’’میں نے بحالت نیند خود کو جنت میں دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک عورت محل کے گوشے میں وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ مجھے ان کی غیرت کا خیال آیا تو میں پیچھے کی طرف واپس آگیا۔ ’’اس پر حضرت عمر ؓرو پڑے اور عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3242]
حدیث حاشیہ:

جنت میں وضو کرنا میل کچیل کے ازالے کے لیے نہیں تھا کیونکہ جنت میں یہ چیزیں نہیں ہوں گی۔
جنھیں دور کیا جائے بلکہ عورت کا وضو کرنا اس لیے تھا کہ اس کے حسن میں اضافہ ہوجائے اور نورانیت پہلے سے بڑھ جائے۔

امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ جنت محض خواب و خیال کی چیز نہیں بلکہ وہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جو پیدا کردی گئی ہے وہاں ہر ایک جنتی کے مکانات مع ساز و سامان تیار ہیں نیز اس سے حضرت عمر ؒ کا قطعی طور پر جنتی ہونا ثابت ہوتاہے حضرت عمر خوشی کے مارے رو دیے۔
اور غیرت کا ذکر اس لیے کیا کہ آپ تو میرے بزرگ اور مربی ہیں غیرت تو برابر والے سے ہوتی ہے کہ مالک اور مربی سے۔

بہر حال جنت اب بھی موجد ہے اور اسے ساز و سامان سمیت اللہ نے پیدا کردیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3242 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5227 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5227. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے خود کو بحالت خواب جنت میں دیکھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت محل کے کونے میں بیٹھی وضو کررہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتے نے کہا: یہ محل سیدنا عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ مجھے عمر ؓ کی غیرت یاد آگئی تو وہاں سے واپس چلا آیا۔ سیدنا عمر بن خطاب ؓ کو مجلس میں تھے ور پڑے اور عرض کی: اللہ کے رسول! کیا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں؟[صحيح بخاري، حديث نمبر:5227]
حدیث حاشیہ: یہ رونا خوشی کا تھا، اللہ کا فضل وکرم اور نوازش کا خیال کرکے کہ حق تعالیٰ نے مجھ ناچیز پر یہ سرفراز ی فرمائی کہ بہشت بریں میں میرے لئے ایسا عالی شان محل تیار کیا اسی لئے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں تو آپ کا ادنیٰ خادم ہوں اور میری بیویاں حوریں وغیرہ سب آپ کی خادمہ بھلا میں آپ پر کیا غیرت کر سکتا ہوں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5227 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5227 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5227. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے خود کو بحالت خواب جنت میں دیکھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت محل کے کونے میں بیٹھی وضو کررہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتے نے کہا: یہ محل سیدنا عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ مجھے عمر ؓ کی غیرت یاد آگئی تو وہاں سے واپس چلا آیا۔ سیدنا عمر بن خطاب ؓ کو مجلس میں تھے ور پڑے اور عرض کی: اللہ کے رسول! کیا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں؟[صحيح بخاري، حديث نمبر:5227]
حدیث حاشیہ:
(1)
پہلی حدیث میں احتمال تھا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداری کے عالم میں جنت کا مشاہدہ کیا ہو لیکن دوسری حدیث نے اس احتمال کو ختم کردیا کہ جنت میں بحالت بیداری نہیں بلکہ خواب میں داخل ہوئے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسری حدیث غالباً اس لیے ذکر کی ہے۔
(فتح الباری: 9/404) (2)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رونا خوشی کی بنا پر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے مجھ ناچیز پر یہ عنایت فرمائی کہ بہشت بریں میں میرے لیےعالی شان محل تیار کیا۔
آپ نے اپنے جذبات کا اظہار اس لیے کیا کہ آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور آپ کی بیویاں اور جنت میں ملنے والی حوریں سب آپ کی خادمائیں ہیں، بھلا ایسے حالات میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کس طرح غیرت کرسکتے ہیں۔
والله اعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5227 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7025 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7025. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اس دوران آپ نے فرمایا: ایک وقت میں سو رہا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا، وہاں ایک عورت محل کے کونے میں وضو کر رہی تھی، میں نے کہا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محل عمر کا ہے۔ مجھےاس کی غیرت یاد آگئی تو وہاں سے واپس چلا آیا۔ حضرت عمر ؓ یہ سن کر رو پڑے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ پر قربان، میں نے آپ پر غیرت کرنی تھی؟[صحيح بخاري، حديث نمبر:7025]
حدیث حاشیہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو خواب میں وضو کرتے دیکھا یہی باب سے مناسبت ہے وہ عورت جسے اس حالت میں دیکھا جائے بڑی ہی قسمت والی ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7025 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7025 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7025. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اس دوران آپ نے فرمایا: ایک وقت میں سو رہا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا، وہاں ایک عورت محل کے کونے میں وضو کر رہی تھی، میں نے کہا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محل عمر کا ہے۔ مجھےاس کی غیرت یاد آگئی تو وہاں سے واپس چلا آیا۔ حضرت عمر ؓ یہ سن کر رو پڑے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ پر قربان، میں نے آپ پر غیرت کرنی تھی؟[صحيح بخاري، حديث نمبر:7025]
حدیث حاشیہ:

یہ عورت اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بحالت خواب جنت میں دیکھا تھا وہ اس وقت زندہ تھیں اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ یقیناً اہل جنت میں سے ہیں کیونکہ اہل تعبیر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کسی کو جنت میں دیکھتا ہے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا بالخصوص جبکہ خواب دیکھنےوالے تمام مخلوق سے راست باز اور سچے ہوں انھیں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے محل کے قریب دیکھنا اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت تک زندہ رہیں گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 520/12)

یقیناً جو آدمی خواب میں وضو کرتا ہے یا کسی کو وضو کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو بہت خوش قسمت ہے۔
اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ہم سب کو خیرو برکت سے نوازے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7025 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 107 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا: اس اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا، پھر اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ اس عورت نے کہا: عمر کا (مجھے عمر کی غیرت یاد آ گئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس ہو گیا)۔‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ سے غیرت کروں گا؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 107]
اردو حاشہ: (1)
انبیاء علیھم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے، لہذا یہ خواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قطعی جنتی ہونے کی دلیل ہے۔

(2)
محل کے قریب وضو کرنے سے غالبا یہ مراد ہے کہ محل سے ملحق باغ میں ندی سے وضو کر رہی تھی۔
گویا اس طرح وہ محل ہی میں تھی۔
واللہ أعلم۔

(3)
قائد اور لیڈر کو اپنے ساتھیوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر ان کی عزت کو اپنی عزت سمجھنا چاہیے۔

(4)
اس سے اس عقیدت اور محبت کا اندازہ ہوتا ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، خصوصا کبار صحابہ رضی اللہ عنھم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رکھتے تھے۔
چونکہ نبی سے محبت ایمان کا جز ہے، اس لیے اس محبت کی شدت بھی ایمان کی قوت اور کمال کی علامت ہے۔

(5)
جنت میں حدث اور نجاست نہیں ہو گی، لہذا یقینا یہ وضو نظافت ولطافت کی خاطر ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 107 سے ماخوذ ہے۔