حدیث نمبر: 2394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَا جَابِرًا يُخْبِرُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ . حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ فِيهَا دَارًا أَوْ قَصْرًا ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ ، فَبَكَى عُمَرُ ، وَقَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَ عَلَيْكَ يُغَارُ " .

محمد بن عبداللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے کہا: (الفاظ انہی (زہیر) کے ہیں۔) ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو اور ابن منکدر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک گھر یا محل دیکھا، میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: یہ عمر بن خطاب کا (محل) ہے، میں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا، پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے غیرت کی جاتی ہے؟

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا . ح وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرٍ .

یہی روایت امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2394
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5226 | صحيح البخاري: 7024

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7024 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7024. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں (بحالت خواب) جنت میں داخل ہوا۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ سونے کے محل میں داخل ہو رہا ہوں۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محل ایک قریشی مرد کا ہے۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا جسے میں خوب جانتا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں؟۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7024]
حدیث حاشیہ:

ابن قتیبہ اور علامہ خطابی نے اس حدیث کے لفظ (تَتَوَضَّاءُ)
پر اعتراض کیا ہے کہ اس میں تحریف ہوئی ہے یہ اصل میں (شوهاء)
ہے جس کے معنی خوبصورت کے ہیں اس کی بنیاد یہ ہے کہ جنت دار تکلیف نہیں کہ وہاں وضو کرنے کی ضرورت ہو۔
لیکن یہ اعتراض برمحل نہیں کیونکہ وہ عورت اس لیے وضو کرتے ہوئے دکھائی گئی تاکہ اس کا حسن دوبالا ہو اور اس کے نور میں اضافہ ہو۔
وہ میل کچیل دور کرنے کرنے کے لیے وضو نہیں کرتی تھیں کیونکہ جنت اس سے پاک ہے۔
اس بنا پر ان بزرگوں کا صحیح بخاری کے الفاظ پر اعتراض درست نہیں۔

علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے۔
کہ تتوضأ کا لفظ وضاءة سے مشتق ہے جس کے معنی نظافت و لطافت کے ہیں وضو سے بھی مشتق ہو سکتا ہے اور جنت کا دار تکلیف نہ ہونا اس امر سے مانع نہیں کیونکہ ہو سکتا ہےکہ یہ وضو بطور تکلیف نہ ہو۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 519/12)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7024 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5226 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5226. سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں جنت کے اندر داخل ہوا یا جنت میں پہنچا تو وہاں میں نے ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں کے کہا: یہ محل سیدنا عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ میں نے چاہا اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت کا مجھے علم تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اے اللہ کے نبی! کیا میں نے آپ پر غیرت کرنا تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5226]
حدیث حاشیہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام امت کے لئے پدر بزگوار کی طرح تھے اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تو آپ داماد بھی تھے، داماد سسر کا عزیز خاص ہوتا ہے، اس میں یہاں غیرت کا سوال ہی نہ تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5226 سے ماخوذ ہے۔