صحيح مسلم
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل
باب الإِيتَارِ فِي الاِسْتِنْثَارِ وَالاِسْتِجْمَارِ: باب: ناک میں طاق مرتبہ پانی ڈالنا، اور طاق مرتبہ استنجاء کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 239
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُوتِرْ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ڈھیلے استعمال کرے، تو طاق بار استعمال کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، وہ بتاتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی ڈھیلے استعمال کرے، تو طاق بار استعمال کرے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:565]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: تمام مذکورہ بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ استنجا میں ڈھیلے طاق (تین پانچ یا سات)
استعمال کرنے چاہییں، تین کا استعمال فرض ہے اور تین سے زائد کا انحصار ضرورت پر ہے، اور تین سے اوپر میں طاق کا لحاظ بہتر اور افضل ہے، لازم نہیں ہے۔
استعمال کرنے چاہییں، تین کا استعمال فرض ہے اور تین سے زائد کا انحصار ضرورت پر ہے، اور تین سے اوپر میں طاق کا لحاظ بہتر اور افضل ہے، لازم نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 239 سے ماخوذ ہے۔