حدیث نمبر: 2364
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ ، وَلَا يَرَانِي ، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ " ، قَالَ أَبُ وَإِسْحَاقَ : الْمَعْنَى فِيهِ عِنْدِي لَأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ، وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ .

ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، انہوں نے کئی حدیثیں بیان کیں، ان میں یہ (بھی) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم لوگوں میں سے کسی پر وہ دن ضرور آئے گا کہ وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گا۔ اور میری زیارت کرنا اس کے لیے اپنے اس سارے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہو گا جو ان کے پاس ہو گا۔“ (امام مسلم کے شاگرد) ابواسحاق (ابراہیم بن محمد) نے کہا: میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شخص مجھے اپنے سب لوگوں کے ساتھ دیکھے، میں اس کے نزدیک اس کے اہل و مال سے زیادہ محبوب ہوں گا۔ اس میں تقدیم و تاخیر ہوئی ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2364
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمام بن منبہ کو سنائی ہوئی حدیثوں میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم پر ایک وقت ضرورآئےگا کہ تم میں سے کوئی مجھے نہیں دیکھ سکےگا، پھر اس کے لیے میرا دیدار کرنا، اپنے اہل اور ان کے ساتھ ان کا مال ہو سےزیادہ محبوب ہوگا۔‘‘ ابواسحاق کہتے ہیں، میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ مجھے ان کے ساتھ دیکھنا، اسے اپنے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہوگا، میرے نزدیک یہاں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6129]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: آپ کا مقصد صحابہ کرام کو سفر و حضر میں آپ کی مجلس میں حاضر رہنے کی تلقین کرنا اور اس کی تشویش و ترغیب دلانا ہے، تاکہ وہ آپ سے شریعت کی ہدایات و تعلیمات سیکھیں، آپ کا طریقہ اپنائیں اور اس کو یاد رکھ کر بعد والوں تک پہنچائیں، کیونکہ ایک وقت آئے گا کہ آپ کی مجلس میں حاضری میں کوتاہی کرنے پر انہیں ندامت ہو گی اور اپنے اہل و مال کی بجائے آپ کو دیکھنا زیادہ محبوب ہو گا، اس لیے آپ کی وفات پر صحابہ کرام کے سامنے دنیا تاریک ہو گئی تھی اور وہ اپنے آپ ہی سے اجنبی ہو گئے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6129 سے ماخوذ ہے۔