صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ: باب: احکام شرعیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار۔
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ ، فَقَالَ : لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ ، قَالَ : فَخَرَجَ شِيصًا ، فَمَرَّ بِهِمْ ، فَقَالَ : مَا لِنَخْلِكُمْ ، قَالُوا : قُلْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ " .حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اور حماد ہی نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں گابھہ لگا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم یہ نہ کرو تو (بھی) ٹھیک رہے گا۔“ کہا: اس کے بعد گٹھلیوں کے بغیر روی کھجوریں پیدا ہوئیں، پھر کچھ دنوں کے بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”تمھاری کھجوریں کیسی رہیں؟“ انہوں نے کہا: آپ نے اس طرح فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جاننے والے ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2363
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جوکھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم یہ عمل نہ کرو تو اچھا ہوگا۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، اس (عمل کے ترک) سے ردی کھجوری پیدا ہوئیں، سو آپ ان کے پاس سے گزرے اور پوچھا: ’’تمہاری کھجوروں کو کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، آپ نے یہ یہ فرمایا تھا، آپ ﷺنے فرمایا: ’’تم اپنے دنیوی معاملات سے خو ب آگاہ ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6128]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
شيص: نکمی اور ردی کھجور۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، وہ دنیوی معاملات، جن کا تعلق تجربہ سے ہے اور شریعت نے ان کے بارے میں کوئی قطعی یا یقینی حکم نہیں دیا، اس کو لوگوں کے تجربات اور مشاہدات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اپنے تجربہ میں عمل پیرا ہوں۔
اس کا یہ معنی نہیں ہے جن دنیوی امور کے بارے میں آپ قطعی حکم صادر فرمائیں ان میں بھی اپنے تجربہ کو ترجیح دی جائے گی۔
شيص: نکمی اور ردی کھجور۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، وہ دنیوی معاملات، جن کا تعلق تجربہ سے ہے اور شریعت نے ان کے بارے میں کوئی قطعی یا یقینی حکم نہیں دیا، اس کو لوگوں کے تجربات اور مشاہدات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اپنے تجربہ میں عمل پیرا ہوں۔
اس کا یہ معنی نہیں ہے جن دنیوی امور کے بارے میں آپ قطعی حکم صادر فرمائیں ان میں بھی اپنے تجربہ کو ترجیح دی جائے گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2363 سے ماخوذ ہے۔