صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ: باب: احکام شرعیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ ، فَقَالَ : مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ ، يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الْأُنْثَى ، فَيَلْقَحُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا ، قَالَ : فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ ، فَتَرَكُوهُ ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ ، فَلْيَصْنَعُوهُ ، فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا ، فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا ، فَخُذُوا بِهِ ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ " .موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا جو درختوں کی چوٹیوں پر چڑھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ گابھہ لگا رہے ہیں نر (کھجور کا بور) مادہ (کھجور) میں ڈال رہے ہیں اس طرح یہ (درخت) ثمر آور ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا گمان نہیں کہ اس کا کچھ فائدہ ہو تا ہے۔“ لوگوں کو یہ بات بتا دی گئی تو انہوں نے (گابھہ لگانے کا) یہ عمل ترک کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی۔ تو آپ نے فرمایا: ”اگر یہ کام انہیں فائدہ پہنچاتا ہے تو کریں۔ میں نے تو ایک بات کا گمان کیا تھا تو گمان کے حوالے سے مجھے ذمہ دار نہ ٹھہراؤ لیکن جب میں اللہ کی طرف سے تمھارے ساتھ بات کروں تو اسے اپنا لو، کیونکہ اللہ عزوجل پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
يلقحون: نر کھجور کا گابھا، مادہ کھجور کے گابھا میں داخل کرتے ہیں، مذکر کھجور کا شگوفہ مؤنث کھجور میں ڈالنا۔
(2)
يتلقح: وہ پھل دار ہو جاتا ہے۔
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے باغ میں گزرا، تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” یہ لوگ کیا کر رہے ہیں “؟ لوگوں نے عرض کیا: نر کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ ہو گا “، یہ خبر جب ان صحابہ کو پہنچی تو انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا، لیکن اس سے درختوں میں پھل کم آئے، پھر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ف۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2470]
فوائد و مسائل:
(1)
دنیوی معاملات میں ہروہ کام جائز ہے جس سےمنع نہ کیا گیا ہو لیکن عبادت میں صرف وہی کام جائز ہے جو رسول اللہ ﷺ سےثابت ہے۔
خود ساختہ رسوم اوراعمال کوثواب کا باعث قراردینا درست نہیں بلکہ یہ اعمال بدعت ہیں جن کا ارتکاب گناہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ ایک انسان تھے اس لیے دنیا کے معاملات میں رسول اللہ ﷺنے اپنی رائے کووہ اہمیت نہیں دی جو ایک پیشے سے متعلق ماہر آدمی کی رائے کو دی۔
(2)
نبی کےلیے ضروری نہیں کہ وہ ہر پیشے اور ہر فن کی باریکیوں سے واقف ہو البتہ جن معاملات کا تعلق شریعت کی تبلیغ وتوضیح سے ہوتاہے ان میں نبی کواللہ کی طرف سے مکمل رہنمائی ملتی ہے۔
(3)
سچا نبی جھوٹ نہیں بول سکتا۔
اور جس شخص سے جھوٹ کا ارتکاب ثابت ہو جائے وہ نبوت کے دعوے میں سچا نہیں ہوسکتا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹا ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے دنیوی معاملات میں صریح جھوٹ بولا اورعوام کو دھوکا دیا مثلاً اس نے اپنی کتاب براہین احمدیہ کےبارے میں اعلان کیا کہ وہ پچاس اجزاء پر مشتمل ہوگی۔
لیکن پہلی جلد شائع نہ ہو سکی توکہہ دیا کہ پانچ حصوں کی اشاعت سے پچاس حصوں کا وعدہ پورا ہو گیا ہے اس کے علاوہ اس نے متعدد جھوٹ بولے اورجھوٹے دعوے کیے جس کی تفصیل شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کذبات مرزا وغیرہ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔