حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، ويحيى بن محمد اللؤلئي وألفاظهم متقاربة ، قَالَ مَحْمُودٌ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " ، قَالَ : فَمَا أَتَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ ، قَالَ : غَطَّوْا رُءُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ ، قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، قَالَ : فَقَامَ ذَاكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي ، قَالَ : أَبُوكَ فُلَانٌ ، فَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 .

نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں موسیٰ بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے بارے میں کوئی بات پہنچی تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا، اور کہا: "جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے خیر اور شر کے بارے میں آج کے دن جیسی (تفصیلات) کبھی نہیں دیکھیں۔ جو میں جانتا ہوں، اگر تم (بھی) جان لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔" (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کبھی نہیں آیا۔ کہا: انہوں نے اپنے سر ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ کہا: تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ کہا: ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور پوچھا: میرا باپ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ فلاں تھا۔" اس پر آیت اتری: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔"

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ فُلَانٌ ، وَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 تَمَامَ الْآيَةِ " .

روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا: مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تیرا باپ فلاں ہے۔" پھر یہ آیت نازل ہوئی: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔" مکمل آیت پڑھی۔

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ ، وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ ، فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ ، مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَقُولَ : سَلُونِي ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ أَنْ يَقُولَ : سَلُونِي ، بَرَكَ عُمَرُ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا ، فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ : مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ ، أَعَقَّ مِنْكَ ، أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ : وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ ، لَلَحِقْتُهُ " .

یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور انہیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے بہت بڑے بڑے امور وقوع پذیر ہوں گے، پھر فرمایا: "جو شخص (ان میں سے) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہے تو سوال کر لے۔ اللہ کی قسم! میں جب تک اس جگہ کھڑا ہوں، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے میں تمھیں اس کے بارے میں بتاؤں گا۔" حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا اور آپ نے بار بار کہنا شروع کر دیا: "مجھ سے پوچھو" تو لوگ بہت روئے، اتنے میں عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ تھا۔" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بار "مجھ سے پوچھو" فرمانا شروع کیا (اور پتہ چل گیا کہ آپ غصے میں کہہ رہے ہیں) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرما لیا۔ کہا: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اچھا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی کے اندر جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو خیر اور شر کے بارے میں جو میں نے آج دیکھا، کبھی نہیں دیکھا۔" ابن شہاب نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ (کی یہ بات سن کر ان) کی والدہ نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بیٹا تم سے زیادہ والدین کا حق پامال کرنے والا ہو۔ کیا تم خود کو اس بات سے محفوظ سمجھتے تھے کہ ہو سکتا ہے تمھاری ماں سے بھی کوئی ایسا کام ہو گیا ہو جو اہل جاہلیت کی عورتوں سے ہو جاتا تھا تو تم اس طرح (سوال کر کے) سب لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کر دیتے؟ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے بھی ملا دیتے تو میں اسی کی ولدیت اختیار کر لیتا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ مَعَهُ ، غَيْرَ أَنَّ شُعَيْبًا ، قَالَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ ، قَالَتْ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ .

معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اور اس کے ساتھ عبیداللہ کی حدیث بیان کی، البتہ شعیب نے کہا: زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی، کہا مجھے علم رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے کہا: جس طرح یونس کی حدیث ہے۔

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : سَلُونِي ، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ ، إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْقَوْمُ أَرَمُّوا ، وَرَهِبُوا ، أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ ، قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ ، كَانَ يُلَاحَى ، فَيُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، إِنِّي صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَرَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ " .

سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (بہت زیادہ اور بے فائدہ) سوالات کیے حتیٰ کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سوالات سے تنگ کر دیا، تو ایک دن آپ باہر تشریف لائے، منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا: "اب مجھ سے (جتنے چاہو) سوال کرو، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے، میں تم کو اس کا جواب دوں گا۔" جب لوگوں نے یہ سنا تو اپنے منہ بند کر لیے اور سوال کرنے سے ڈر گئے کہ کہیں یہ کسی بڑے معاملے (وعید، سزا سخت حکم وغیرہ) کا آغاز نہ ہو رہا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دائیں بائیں دیکھا تو ہر شخص کپڑے میں منہ لپیٹ کر رو رہا تھا تو مسجد میں سے وہ شخص اٹھا کہ جب (لوگوں کا) اس سے جھگڑا ہو تا تھا تو اسے اس کے باپ کے بجائے کسی اور کی طرف منسوب کر دیا جاتا تھا (ابن فلاں! کہہ کر پکارا جاتا تھا) اس نے کہا: اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ ہے۔" پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: ہم اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مان کر راضی ہیں اور ہم برے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے والے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خیر اور شر میں جو کچھ میں نے آج دیکھا ہے کبھی نہیں دیکھا۔ میرے لیے جنت اور جہنم کی صورت گری کی گئی تو میں نے اس (سامنے کی) دیوار سے آگے ان دونوں کو دیکھ لیا۔"

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ .

ہشام اور معمر کے والد سلیمان دونوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 749 | صحيح البخاري: 4621 | صحيح البخاري: 6468 | صحيح البخاري: 6486 | صحيح مسلم: 2359 | سنن ابن ماجه: 4191

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 749 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
749. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایاکہ ہمیں نبی ﷺ نے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لائے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے مسجد کے قبلے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ’’میں نے ابھی جبکہ تمہیں نماز پڑھا رہا تھا جنت اور دوزخ کو دیکھا۔ ان دونوں کی اس دیوار کے قبلے میں تصویریں بنا دیں گئی تھیں۔ میں نے آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا جس میں خیر اور شر دونوں جمع ہوں۔‘‘ آپ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:749]
حدیث حاشیہ: خیر بہشت اور شر دوزخ مطلب یہ کہ بہشت سے بہتر کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی اور دوزخ سے بری کوئی چیز نہیں دیکھی۔
اس حدیث میں امام کا آگے دیکھنا مذکور ہے اور جب امام کو آگے دیکھنا جائز ہوا تو مقتدی کو بھی اپنے آگے یعنی امام کو دیکھنا جائز ہوگا۔
حدیث اورباب میں یہی مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 749 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 749 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
749. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایاکہ ہمیں نبی ﷺ نے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لائے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے مسجد کے قبلے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ’’میں نے ابھی جبکہ تمہیں نماز پڑھا رہا تھا جنت اور دوزخ کو دیکھا۔ ان دونوں کی اس دیوار کے قبلے میں تصویریں بنا دیں گئی تھیں۔ میں نے آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا جس میں خیر اور شر دونوں جمع ہوں۔‘‘ آپ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:749]
حدیث حاشیہ:
(1)
دوران نماز میں مقتدی کی نظر کہاں ہو؟ اس میں اختلاف ہے۔
جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ سجدہ کی جگہ پر مقتدی کی نظر ہونی چاہیے کیونکہ ایسا کرنا انتہائی خشوع کی علامت ہے، البتہ امام مالک کا موقف ہے کہ مقتدی کی نظر امام کی طرف ہونی چاہیے تاکہ اسے اس کے انتقالات کا علم ہوتا رہے۔
امام بخاری ؒ فرماتے ہیں کہ واقعی مقتدی کو اپنی نظر سجدہ گاہ پر مرکوز رکھنی چاہیے، البتہ کسی ضرورت ک پیش نظر وہ امام کی طرف نظر اٹھا سکتا ہے۔
اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔
مذکورہ روایت میں اس بات کا واضح ثبوت ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں: بہتر یہی ہے کہ نمازی بحالت نماز سجدہ گاہ پر نظر رکھے لیکن اگر وہ امام کو دیکھے اور سجدے پر نظر نہ رکھے تو اس کی گنجائش ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بحالت نماز اپنے سامنے کی طرف دیکھا اور سجدہ گاہ کی طرف نہ دیکھا۔
اس پر مقتدی کو قیاس کیا جائے گا۔
(2)
امام بخاری ؒ کی مراد سجدہ گاہ کو دیکھنے کے لزوم کی نفی کرنا ہے۔
(3)
یہ حکم قیام کی صورت میں ہے کہ نظر سجدہ گاہ پر ہو، تاہم تشہد کی حالت میں نظر دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر ہونی چاہیے، اس طرح کے اسے اٹھائے رکھے اور دعا کرے۔
(سنن النسائي، التطبیق، حدیث: 1161)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 749 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6468 کی شرح از محمد حسین میمن ✍️
´نیک عمل پر ہمیشگی کرنا اور درمیانی چال چلنا (نہ کمی ہو نہ زیادتی)`
«. . . عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى لَنَا يَوْمًا الصَّلَاةَ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" قَدْ أُرِيتُ الْآنَ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قُبُلِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ . . .»
. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے اور اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس وقت جب میں نے تمہیں نماز پڑھائی تو مجھے اس دیوار کی طرف جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی میں نے (ساری عمر میں) آج کی طرح نہ کوئی بہشت کی سی خوبصورت چیز دیکھی نہ دوزخ کی سی ڈراؤنی، میں نے آج کی طرح نہ کوئی بہشت جیسی خوبصورت چیز دیکھی نہ دوزخ جیسی ڈراونی چیز۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ: 6468]

صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 6468 کا باب: «بَابُ الْقَصْدِ وَالْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ:»
باب اور حدیث میں مناسبت: امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب نیک اعمال پر مداومت اختیار کرنے پر قائم فرمایا، تحت الباب آٹھ احادیث کا ذکر فرمایا، آخری حدیث جو کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اور جہنم دکھائی گئی ہے، لہذا بظاہر حدیث کے متن میں کوئی ایسے الفاظ نہیں ہیں جس سے ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت قائم ہوتی ہو۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «و فى الحديث إشارة إلى الحث على مداومة العمل، لأن من مثل الجنة و النار بين عينيه كان ذالك باعثًا له على المواظبة على الطاعة و الانكفاف عن المعصية، ولهذا التقريب تظهر مناسبة الحديث للترجمة.» (1)
یعنی حدیث میں مداومت عمل کی حث و تحریض ہے، کیوں کہ جن کی آنکھوں کے سامنے جنت اور دوزخ ممثل کر دی جائے، یہ دوام اطاعت اور نافرمانی سے رک جانے پر اس کے لیے باعث متحرک ہو گا، اس تقریب سے حدیث کی ترجمۃ الباب سے مناسبت ظاہر ہوتی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جو تطبیق دی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبادت میں دوامت جنت کی راہ ہے اور معاصیت پر چلنا جہنم کا راستہ ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم دیکھا ان کی نافرمانی جہنم میں داخلے کا موجب ہو گی، لہذا جنت کے اعمال کرے اور اس میں ہمیشگی (دوامت) اختیار کرے، پس یہیں سے باب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔
حقیقت میں ہر وہ عمل جو دوام سے کیا گیا ہو اور وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو تو وہ جنت کا سبب بنتا ہے، اور اگر شدید کثرت کے ساتھ کوئی عمل کیا جائے تو ڈر ہے کہ کہیں اس میں انقطاع نہ آ جائے، جس کے سبب انسان نیکی کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کر بیٹھے، چنانچہ علامہ مہلب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «إنما حضّ الشارع أمته على القصد والمداومة على العمل و ان قل، خشية انقطاع عن العمل الكثير، فكأنه رجوع عن فعل الطاعات، وقد ذم الله ذلك، و مدح من اوفي بالنذر.» (1)
شارع صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دوامت اور کثرت عمل کرنے کی ترغیب دی ہے، چاہے وہ عمل تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اس سب پر کہ کہیں شدید عمل انقطاع کا باعث نہ بن جائے، گویا کہ وہ لوٹ جائے اطاعت کے فعل سے، یقینا اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو مذموم قرار دیا ہے اور اس کی مدح کی جو اسے پورا کرے۔
لہذا ان اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ نیک اعمال میں ہمیشگی جنت کی راہ ہموار کرتی ہے اور اس میں انقطاع اللہ تعالی کی نافرمانی ہے، اب جو شخص بھی جنت کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسے نیک اعمال میں ہمیشگی اختیار کرنی چاہے، پس یہیں سے باب اور حدیث میں مناسبت ہے۔
درج بالا اقتباس عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد دوئم، حدیث/صفحہ نمبر: 218 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6468 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6468. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلے کی طرف اشارہ فرمایا جب میں نے تمہیں نماز پڑھائی تو اس وقت مجھے اس دیوار کی طرف جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی۔ میں نے آج تک بہشت کی سى خوبصورت چیز اور جہنم کی سی ڈروانی شکل نہیں دیکھی۔ میں نے آج کے دن کی طرح خیر اور شر جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6468]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں نمازی کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ نماز پڑھتے وقت جنت اور دوزخ کا اپنے سامنے استحضار کرے تاکہ نماز میں شیطان کے وسوسے سے پیدا ہونے والی سوچ بچار سے محفوظ رہے۔
جو شخص انہیں اپنے ذہن میں رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مصروف اور اس کی نافرمانی سے محفوظ رہے گا۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں عمل پر ہمیشگی کرنے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جو شخص جنت اور دوزخ کو اپنے سامنے ظاہر کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگا رہے گا اور اس کی نافرمانی سے رک جائے گا۔
اس طرح حدیث کی عنوان سے مطابقت بھی ظاہر ہو جاتی ہے کہ اعتدال کے ساتھ نیک عمل پر ہمیشگی کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 363/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6468 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4621 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4621. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیا۔ میں نے اس جیسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’جو حقائق میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں معلوم ہو جائیں تو تم ہنسو کم اور روو زیادہ۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آواز آنے لگی۔ اس موقع پر ایک آدمی نے پوچھا: میرے والد کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’تیرا والد فلاں شخص ہے۔‘‘ اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ’’تم ایسی باتیں مت پوچھو، اگر تم پر وہ ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔‘‘ اس حدیث کو نضر اور روح بن عبادہ نے حضرت شعبہ سے بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4621]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ کا یہ وعظ موت اور آخرت سے متعلق تھا۔
صحابہ کرام ؓ پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ بے تحاشا رونے لگے کیونکہ ان کو کامل یقین حاصل تھا۔
بے جا سوال کر نے والوں کو اس آیت میں روکا گیا کہ اگر جواب میں اس کی حقیقت کھلی جس کو وہ ناگوار ی محسوس کریں تو پھر اچھا نہیں ہوگا لہذا بے جا سوالات کرنے ہی مناسب نہیں ہیں۔
فقہائے کرام نے ایسے بے جا مفروضات گھڑ گھڑ کر اپنی فقاہت کے ایسے نمونے پیش کئے ہیں، جن کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
تفصیلات کے لیے کتاب حقیقۃ الفقہ کا مطالعہ کیا جائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4621 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4621 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4621. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیا۔ میں نے اس جیسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’جو حقائق میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں معلوم ہو جائیں تو تم ہنسو کم اور روو زیادہ۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آواز آنے لگی۔ اس موقع پر ایک آدمی نے پوچھا: میرے والد کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’تیرا والد فلاں شخص ہے۔‘‘ اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ’’تم ایسی باتیں مت پوچھو، اگر تم پر وہ ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔‘‘ اس حدیث کو نضر اور روح بن عبادہ نے حضرت شعبہ سے بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4621]
حدیث حاشیہ:

ایک حدیث میں اس خطبے کا پس منظر بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے کوئی ناگوار بات پہنچی تو آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: "ابھی ابھی مجھ پر جنت اور دوزخ پیش کی گئی تھیں۔
آج سے بڑھ کر میں نے کبھی خیر اور شر کونہیں دیکھا جن حقائق کو میں جانتا ہوں اگر وہ تمھیں معلوم ہو جائیں تو تم بہت کم ہنسو اور زیادہ رؤوکرو۔
" (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6119۔
(2359)

بہرحال مذکورہ آیت کریمہ کثرت سے سوالات کرنے کے متعلق نازل ہوئی۔
وہ سوالات استہزاء، امتحان، شرارت اور عناد پر مبنی ہوتے تھے بصورت دیگر امور دین کے متعلق سوالات کرنے کی پابندی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ایسے سوالات کرنا ضروری ہوتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اگر تمھیں علم نہیں ہے تو اہل ذکر سے پوچھا لیا کرو۔
" (النحل: 16۔
43)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4621 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6486 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6486. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور روتے زیادہ۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6486]
حدیث حاشیہ:
(1)
حقائق سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت، حرمت کی پامالی پر اس کا انتقام، جان کنی کی سختی، قبر کی وحشت اور قیامت کی ہولناکیاں ہیں۔
اس مقام پر کم ہنسنا اور زیادہ رونا محتاج بیان نہیں ہے۔
(2)
اس حدیث کا پس منظر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے مسجد کی طرف تشریف لائے تو آپ نے چند صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا جو آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور ہنس کر ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات کر رہے تھے، اس وقت آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
(فتح الباري: 388/11)
قرآن میں ہے: ’’انہیں چاہیے کہ وہ ہنسیں کم اور زیادہ روئیں، اللہ کے ہاں اپنے کیے ہوئے اعمال کا ضرور بدلہ ملے گا۔
‘‘ (التوبة: 82/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6486 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2359 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیے، حتی کہ آپ سےسوالات پر اصرار کیا، (آپﷺ تنگ پڑ گئے) تو آپ ایک دن تشریف لائے اور منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا: ’’مجھ سے سوال کرلو، تم مجھ سے جو بھی سوال کرو گے، جس چیز کے بارے میں پوچھوگے، میں اس کی حقیقت کھول دوں گا۔ ‘‘جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ چپ ہو گئے او رڈر گئے کہ کہیں یہ کسی عذاب کا پیش خیمہ نہ ہو، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6123]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
أحفوه بالمسئلة: سوالات میں اصرار کیا۔
(2)
أرموا: ہونٹ ملا لیے یعنی چپ ہو گئے۔
(3)
أنشأ رجل: ایک آدمی نے ابتدا کی۔
(4)
يلاحي: اس سے جھگڑا کیا جاتا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2359 سے ماخوذ ہے۔