صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لاَ ضَرُورَةَ إِلَيْهِ أَوْ لاَ يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لاَ يَقَعُ وَنَحْوِ ذَلِكَ: باب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا ، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ ، لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " .عامر بن سعد، اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے،جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں کرید کی،جو مسلمانوں پر حرام نہ تھی تو اس کےسوال کی بناء پر، ان پرحرام قرار دے دی گئی۔‘‘
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَحْفَظُهُ كَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا ، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ ، مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " .ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یہ اسی طرح یاد ہے جس طرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یاد ہے۔ زہری نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں میں سے مسلمانوں کے بارے میں سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے، جس نے ایسے معاملے کے متعلق سوال کیا جو حرام نہیں کیا گیا تھا تو اس کے سوال کی بنا پر اس کو لوگوں کے لیے حرام کر دیا گیا۔"
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ ، وَنَقَّرَ عَنْهُ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا .یہی روایت امام صاحب کو دو اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی،معمر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، ”وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کی کرید کی، تفتیش کی۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
مکلف انسان پر جو عبادات واعمال فرض عین ہے، اس کے متعلق اسے ضرور پوچھنا چاہیے اور اس سے زائد سوالات کرنے کے متعلق لوگوں کی دو قسمیں ہیں: ایک یہ کہ وہ ا پنے اندر بصیرت اور سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو ایسے انسان کو سوال کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اسے چاہیے کہ معلومات میں اضافے کے لیے سوال کرے تاکہ اس کی علمی بصیرت میں اضافہ ہو۔
دوسرا وہ شخص جس میں فہم وبصیرت کی استعداد نہیں ہے، اسے چاہیے کہ خوامخواہ سوالات کے چکر میں نہ پڑے بلکہ اپنے اوقات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارے۔
2۔
واضح رہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر تمھیں علم نہ ہوتو اہل علم سے سوال کرو۔
‘‘ (النحل 16/43)
یہ آیت مذکورہ حدیث کے منافی نہیں کیونکہ مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم ثابت ہی نہیں تو اس کے متعلق سوال کرنا منع ہے اور آیت کریمہ میں ثابت شدہ حکم کے متعلق سوال کرنے کا جواز ہے کہ اس کی وضاحت طلب کی جا سکتی ہے یا اس کی نوعیت کیاہے؟ وہ واجب ہے یا یہ کہ مستحب وغیرہ معلوم کیا جا سکتا ہے لیکن غیر ثابت شدہ حکم کی حلت وحرمت کے بارے میں سوال کرنا حدیث کی رو سے منع ہے۔
واللہ أعلم۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے سوال کرنے کی وجہ سے مسلمانوں پر حرام کر دی گئی ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4610]
دین کے احکام جس طرح ایک عام آدمی کی سمجھ میں آسکتے ہیں، اسی طرح ان پر عمل کرنا چاہیے۔
اطاعت کے لیے یہ کافی ہے۔
خود ان احکام کے اندر مختلف پہلوؤں کو نکال کر سوال کرنے میں کئی قباحتیں ہیں۔
بغیر ضرورت بال کی کھال اتانے سے اپنے اور دوسروں کے لیے سخت دشواریاں پیدا ہوتی ہیں، ان سے احترازکرتے ہوئے صدق نیت سے آیات واحادیث کے سہل اور عام مفہوم پر عمل کرنا کافی ہے۔
قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ یہودیوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم ملا۔
انہوں نے کیسی کس رنگ کی کس طرح کی گائے کے حوالے سے سوال کرنے شروع کردیے۔
ہر سوال سے گائے کی تخصیص ہوتی گئی اور اس طرح کی گائے ذبح کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔
اللہ تعالی نے اس طریقے کار کو یہود کے غلط طریق پر محمول فرمایا۔
حکم ملتے ہی اگر وہ حسن نیت سے کوئی ایک گائے ذبح کر دیتے تو اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے۔
بہت زیادہ سوالات کرنا کبھی بھی اچھا نہیں سمجھا گیا بالخصوص ایسے سوالات جن کا عملی زندگی سے واسطہ نہ ہو۔
یا محض فرضی مسائل ہوں۔
اب اگرچہ حلت وحرمت کا دورتو نہیں، مگر علماء سے بھی لازمی اور ضروری سوالات ہی کرنے چاہییں جن کا تعلق حقیقت واقعہ سے ہو۔
فرضی صورتیں سوچ سوچ کر ان کے جواب مانگنا یا تلاش کرنا غیر صحت مند رویہ ہے جس سے اسلام نے منع کیا ہے۔
«. . . وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَن أعظم الْمُسلمين فِي لامسلمين جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ على النَّاس فَحرم من أجل مَسْأَلته» . . .»
”. . . سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سب سے زیادہ مجرم اور گنہگار وہ آدمی ہے جس نے کوئی ایسی چیز دریافت کی جو لوگوں پر پہلے سے حرام نہیں تھی لیکن اس کے پوچھنے اور دریافت کرنے سے وہ چیز حرام ہو گئی۔“ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 153]
[صحيح بخاري 7289]، [صحيح مسلم 6116]
فقہ الحدیث:
➊ جس چیز کی ممانعت اور حرام ہونے کا ذکر کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت نہیں ہے تو ایسے دنیاوی امور میں اصل یہ ہے کہ یہ چیزیں مباح ہیں الا یہ کہ شریعت میں اس کی ممانت وارد ہو۔ دیکھئے: [فتح الباري 269/13]
➋ فضول سوالات کرنے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔
➌ اس حدیث کا تعلق عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی دور نزول وحی کے ساتھ ہے۔
➍ ایسا کام کرنا جس سے دوسروں کو تکلیف ہو حرام ہے۔
➎ مسئلہ پوچھتے وقت مفاد عامہ کا خیال ضرور رکھنا چاہئیے۔
➏ سیاق و سباق اور حالات کے لحاظ سے بعض اوقات معمولی لغزش بھی بہت سنگین جرم بن جاتا ہے۔
اس حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ بے جا فضول قسم کے سوالات کرنا ناپسندیدہ عمل ہے، اگر چہ حلال و حرام کا تعلق زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے، اب کسی کے سوال کرنے سے کوئی چیز حلال یا حرام نہیں ہوگی، کیونکہ حلال وحرام واضح ہے لیکن اس کے باوجود فضول سوال کرنا مکروہ عمل ہے۔