صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب وُجُوبِ اتِّبَاعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا واجب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ : " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ : اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا زُبَيْرُ اسْقِ ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ : فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا سورة النساء آية 65 .عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں (برساتی نالیوں) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے۔ انصاری کہتا تھا: پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے، انہوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ (کو نرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان) سے کہا: "تم (جلدی سے اپنے باغ کو) پلا کر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کر دو۔" انصاری غضبناک ہو گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس لیے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے۔ (صدمے سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: "زبیر! (باغ کو) پانی دو، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گئے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے۔" زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت: "نہیں! آپ کے رب کی قسم! وہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے" اسی (واقعے) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
شراج: شرج کی جمع ہے، نالی۔
(2)
سرح الماء: پانی چھوڑ دیجئے، اسے روکئے نہیں۔
فوائد ومسائل: حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین پہلے واقع تھی اور اس انصاری صحابی کی زمین ان کے بعد تھی، اس لیے پہلے حق حضرت زبیر کا تھا، جب حضرت زبیر نے کچھ پانی لگا لیا تو انصاری نے کہا، پانی میری طرف آنے دیجئے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا، میری ضرورت پوری نہیں ہوئی، اس لیے میں ابھی نہیں چھوڑوں گا، جھگڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے زبیر کے حق کی بنا پر انہیں کہا، بقدر کفایت پانی لگا لو، رکاوٹوں تک پانی نہ پہنچاؤ، پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو، اس طرح آپ نے صلح جوئی کے لیے یہ مشورہ دیا، یہ اصولی فیصلہ نہ تھا، لیکن انصاری چاہتا تھا، اس کی رعایت کی جائے، اس لیے غصہ میں آ گیا اور ایسی بات کہہ دی، جو ایک مسلمان کے لیے زیبا نہیں ہے، بلکہ کفر و ارتداد کا باعث ہے، لیکن چونکہ ابھی ابتدائی حالات تھے اور اس نے غیر شعوری طور پر بلا سوچے سمجھے یہ بات کہہ دی تھی، اس لیے آپ نے عفوودرگزر سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر پیغمبر کے مقام و مرتبہ کی تعیین کرتے ہوئے یہ ہدایت فرمائی کہ ایمان دار کے لیے ضروری ہے، وہ آپ کا فیصلہ دل و جان سے قبول کرے اور اس کے بارے میں زبان پر تو کیا لانا ہے، دل میں بھی ناگواری محسوس نہ کرے، چونکہ انصاری نے جذبات کی رو میں بہہ کر اپنی رعایت کو حضرت زبیر کی رعایت سمجھا، اس لیے آپ نے پھر دو ٹوک فیصلہ سنا دیا اور پہلے زمین والے کے حق کی تعیین کر دی کہ وہ منڈیر بھرنے تک پانی لگانے کا حقدار ہے۔
قرآن مجید کی اور بھی بہت سے آیات میں اس اصول کو بیان کیا گیا ہے۔
ایک جگہ ارشاد ہے ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا﴾ (الأحزاب36)
کسی بھی مومن مرد اور عورت کے لیے یہ زیبا نہیں کہ جب وہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ سن لے تو پھر اس کے لیے اس بارے میں کچھ اور اختیار باقی رہے جائے۔
اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلا ہوا گمراہ ہے۔
اب ان لوگوں کو خود فیصلہ کرنا چاہئے جو آیات قرانی و احادیث نبوی کے خلاف اپنی رائے اور قیاس کو ترجیح دیتے ہیں یا وہ اپنے اماموں، پیروں، مرشدوں کے فتاووں کو مقدم رکھتے ہیں۔
اور احادیث صحیحہ کو مختلف حیلوں بہانوں سے ٹال دیتے ہیں۔
ان کو خود سوچنا چاہئے کہ ایک انصاری مسلمان صحابی نے جب آنحضرت ﷺ کے ایک قطعی فیصلہ کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا تو اللہ پاک نے کس غضبناک لہجہ میں اسے ڈانٹا اور اطاعت نبو ی کے لیے حکم فرمایا۔
جب ایک صحابی انصاری کے لیے یہ قانون ہے، تو اور کسی مسلمان کی کیا وقعت ہے کہ وہ کھلے لفظوں میں قرآن و حدیث کی مخالفت کرے اور پھر بھی ایمان کا ٹھیکدار بنا رہے۔
اس آیت شریفہ میں منکرین حدیث کو بھی ڈانٹا گیا ہے اور ان کو بتلایا گیا ہے کہ رسول کریم ﷺ جو بھی امور دینی میں ارشاد فرمائیں آپ کا وہ ارشاد بھی وحی الٰہی میں داخل ہے جس کا تسلیم کرنا اسی طرح واجب ہے جیسا کہ قرآن مجید کا تسلیم کرنا واجب ہے۔
جو لوگ حدیث نبوی کا انکار کرتے ہیں وہ قرآن مجید کے بھی منکر ہیں، قرآن و حدیث میں باہمی طور پر جسم اور روح کا تعلق ہے۔
اس حقیقت کا انکاری اپنی عقل و فہم سے دشمنی کا اظہار کرنے والا ہے۔
(1)
نہریں دو قسم کی ہوتی ہیں: مملوک اور غیر مملوک۔
جو غیر مملوک ہیں ان کی پھر دو قسمیں ہیں: ایک بڑے دریا جیسے راوی اور چناب وغیرہ اور دوسرے چھوٹے چھوٹے برساتی نالے جو بارش وغیرہ سے بہہ پڑتے ہیں۔
عنوان سے مراد برساتی اور قدرتی نالے ہیں۔
ان میں پانی محض اللہ کے فضل سے آتا ہے۔
اس میں کسی کی محنت کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔
اس میں عوام شریک ہوتے ہیں، بظاہر ان میں کسی کو کسی وقت رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہیے۔
امام بخاری ؒ نے ان برساتی نالوں کے پانی کو ضرورت کے وقت روکنے کا جواز ثابت کیا ہے۔
(2)
واضح رہے کہ "حرہ" پتھریلی زمین کو کہتے ہیں۔
مدینہ طیبہ کے مشرق و مغرب میں زمین آتش فشانی لاوے پر مشتمل ہے۔
اسی علاقے کو "حرہ" کہتے ہیں۔
وہاں ایک برساتی نالا بہتا تھا جس سے حضرت زبیر ؓ اپنی زمین سیراب کرتے تھے۔
ان کا باغ بالائی علاقے میں تھا اور ایک انصاری کا باغ نشیبی علاقے میں، اس لیے حضرت زبیر ؓ پانی روک کر اپنے باغ کو سیراب کرتے تھے جبکہ انصاری کا مطالبہ تھا کہ پانی روکا نہ جائے بلکہ اسے جاری رکھا جائے۔
اس سے آگے وہی تفصیل ہے جسے حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
(3)
اس سے معلوم ہوا کہ بالائی علاقے پر واقع باغ کو سیراب کرنے کے لیے برساتی نالے کو روکا جا سکتا ہے تاکہ پانی پودوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔
جو ندی نالے وادیوں سے نکلیں یا بارش آنے سے بہہ پڑیں ان کے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ جس کی زمین اوپر ہو گی، اس کا حق ہے کہ پانی روک کر اپنی زمین کو سیراب کرے، اس قدر بندش کرے کہ پانی فصل کی جڑوں تک کے لیے کافی ہو پھر نیچے والے کے لیے اسے چھوڑ دے۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرۃ کی نالیوں کے سلسلہ میں جھگڑا کیا جس سے وہ سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی کو بہنے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” تم اپنے کھیت سینچ لو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو “ یہ سن کر انصاری کو غصہ آ گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں نا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3637]
1۔
کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین باوجود صحابی ہونے کے بشری خطائوں کے مرتکب ہوجاتے تھے۔
اور وہ کسی طرح معصوم نہ تھے۔
ان جزوی اور انفرادی تقصیرات کے باوجود کرہ ارض پر پائے جانے والے تمام طبقات انسانی میں ان صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کا شرف وفضل غیر متنازع ہے۔
کہ اللہ عزوجل نے انھیں اپنے نبی کریمﷺ کی صحبت اور اپنے دین کی نصرت تقویت اور اشاعت کےلئے منتخب فرمایا تھا۔
2۔
قدرتی ندی نالوں اور دریائوں کے پانی کی تقسیم کا یہی شرعی حل ہے۔
کہ اولا مصالحت سے تمام شرکاء اعتدال سے استفادہ کریں۔
لیکن اگر کوئی بعد والا ہٹ دھرمی دکھائے تو پھر پہلے والے کا حق فائق ہے۔
اور جائز ہے کہ وہ اپنے کھیتوں کو خوب سیراب کرکے بعد والے کےلئے پانی چھوڑے۔
3۔
سورہ نساء کی یہ آیت مبارکہ (فَلَا وَرَبِّكَ) مسلمانو ں کے شرعی اور معاشرتی تمام امور کومحیط اور شامل ہے۔
اور واجب ہے کہ قرآن وسنت کے فیصلوں کو برضا ورغبت تسلیم کیا جائے ورنہ سرے سے ایمان ہی خطرے میں ہوسکتا ہے۔
عافانا اللہ منه و رزقنا اتباعه۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کی نالیوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا، (جن سے وہ باغ کی سینچائی کرتے تھے) اور مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، انصاری نے کہا: پانی کو بہتا چھوڑ دو، تو انہوں نے انکار کیا، ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ” زبیر! سینچائی کر لو پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو “، انصاری کو غصہ آ گیا،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5418]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرہ کے نالے کے سلسلے میں جس سے لوگ کھجور کے درخت سیراب کرتے تھے، (ان کے والد) زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، انصاری کہہ رہا تھا: پانی کو چھوڑ دو کہ آگے بہتا رہے، زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانے ۲؎ بالآخر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر (پانی روک کر) اپنے درختوں کو سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو، انصاری نے یہ سنا تو ناراض ہو گیا اور بولا: اللہ کے رسول۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2480]
فوائد و مسائل: (1)
جس طرف سے پانی آ رہا ہو اس طرف کے باغ اور کھیت کو پہلے پانی لینے کا حق ہے۔
(2)
نبئ اکرم ﷺنے پہلے جو فیصلہ دیا تھا اس میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا جائزحق دین کےساتھ ساتھ فریق ثانی کی ضرورت کوبھی مدنظر رکھتےہوئے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کوتھوڑا سا ایثار کرنے کا مشورہ دیا تھا اس انداز کی صلح شرعاً درست ہے۔
(3)
رسول اللہ ﷺکا دوسرا فرمان انصاف کے مطابق فیصلہ تھا جس میں انصاری کودی گئی رعایت واپس لے لی گئی اس میں اس کو ایک لحاظ سے سزا دیتےہوئے انصاف کو قائم رکھا گیا۔
(4)
غصے کی حالت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تاہم رسول اللہ ﷺمعصوم تھے وہ غصےکی حالت میں بھی غلط فیصلہ نہیں دیتے تھے۔
(5)
رسول اللہﷺ پرایمان میں صرف ظاہری اطاعت شامل نہیں بلکہ دل کی پوری آمادگی سےاطاعت اورہرقسم کےشک وشبہ سےمکمل اجتناب ضروری ہے۔
(6)
کسی اختلافی مسئلےمیں جب حدیث نبوی آ جائے تو سے تسلیم کرنا فرض ہے۔
(7)
قرآن مجید کی طرح حدیث نبوی کی تعمیل بھی فرض ہے۔
(8)
کھجور کے درخت کے اردگرد پانی کےلیے جگہ بنائی جاتی ہے جسے تھالہ کہتے ہیں۔
درخت کا تھالہ بھر جائے تو پانی دوسرے درخت کی طرف چھوڑ دیا جائے۔
کھیت میں پانی دینے کےلیےاتنا پانی روکنا چاہیے کہ پاوں کےٹخنے تک پانی کھڑا ہو جائے جیسے کہ اگلی حدیث میں صراحت ہے۔
(9)
آیت اس بارے میں نازل ہوئی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ اوراس قسم کے دوسرے واقعات اس حکم میں داخل ہیں۔