حدیث نمبر: 2349
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً " ، وقَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ ،

عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ تریسٹھ سال کے تھے۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے بھی اسی طرح بتایا۔“

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَ حَدِيثِ عُقَيْلٍ .

یونس بن یزید نے ابن شہاب سے دونوں سندوں سے عقیل کی حدیث کے مانند (بیان کیا)۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2349
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3536 | صحيح البخاري: 4466 | سنن ترمذي: 3654

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4466 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4466. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تریسٹھ (63) برس کی عمر میں انتقال فرمایا۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے اسی طرح کی روایت بیان کی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4466]
حدیث حاشیہ: 13ربیع الاول 11ھ یوم دوشنبہ وقت چاشت تھا کہ جسم اطہر سے روح انور نے پرواز کیا، اس وقت عمر مبارک 63 سال قمری پر چار دن تھی۔
انا للہ وإنا إليه راجعون، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4466 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3536 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3536. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ کی عمر تریسٹھ برس تھی۔ (راوی حدیث) ابن شہاب نے کہا: مجھ سے سعید بن مسیب نے اسی طرح بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3536]
حدیث حاشیہ:
اس عنوان کی یہاں کوئی ضرورت نہ تھی بلکہ اس مقام کتاب المغازی کے آخر میں ہے جیسا کہ امام بخاری ؒ نے مستقل ایک عنوان: 86 اس کے متعلق قائم کیا ہے۔
یہاں آپ کے اسمائے گرامی اور آپ کی صفات بیان کرنا مقصود تھا اور اہل کتاب کے ہاں آپ کی جملہ صفات میں سے یہ بھی مشہور تھا کہ آخر الزمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرتریسٹھ برس ہوگی۔
اسی مناسبت سے امام بخاری ؒ نے اس عنوان اور اس کے تحت مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔
وفات سے متعلقہ دیگر مباحث ہم آئندہ بیان کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3536 سے ماخوذ ہے۔