صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا، چہرے پر ملاحت تھی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : " أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَانَ أَبْيَضَ ، مَلِيحَ الْوَجْهِ " ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الحْجَّاجِ : مَاتَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، سَنَةَ مِائَةٍ ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .خالد بن عبداللہ نے جریری سے، انہوں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے ان (ابوطفیل رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ کا رنگ سفید تھا، چہرے پر ملاحت تھی۔ امام مسلم بن حجاج نے کہا: حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ ایک سو ہجری میں فوت ہوئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے آخری فوت ہوئے تھے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ رَجُلٌ رَآهُ غَيْرِي ، قَالَ ، فَقُلْتُ لَهُ : فَكَيْفَ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : كَانَ أَبْيَضَ ، مَلِيحًا ، مُقَصَّدًا " .عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اب زمین پر سوا میرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والوں میں سے کوئی نہیں رہا۔ (راوی حدیث جریری) کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ ملاحت لیے ہوئے تھا، میانہ قامت تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
لیکن آپ کا دس ہجری میں فرمانا کہ آج سے سو سال بعد کوئی اس وقت کے موجود لوگوں میں سے زندہ نہیں رہے گا کہ تقاضا کہ آخری قول صحیح ہے۔
(1)
مليح: حسین، خوبصورت، نمکینی رنگ۔
(2)
مُقصد: معتدل، نہ دراز اور نہ پستہ، نہ موٹے اور نہ نحیف و نزار۔
سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کو کیسا دیکھا؟ وہ کہا: آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4864]
طاقت ور صحت مند اور چاق و چوبند آدمیوں کی چال بالعموم ایسے ہی ہوا کرتی ہے۔
تواضع کے نام سے ایسی ڈھیلی ڈھیلی چال چلنا گویا کوئی، مریض جا رہا ہو ممدوح (پسندیدہ) نہیں ہے۔