حدیث نمبر: 2340
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : " أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَانَ أَبْيَضَ ، مَلِيحَ الْوَجْهِ " ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الحْجَّاجِ : مَاتَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، سَنَةَ مِائَةٍ ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

خالد بن عبداللہ نے جریری سے، انہوں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے ان (ابوطفیل رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ کا رنگ سفید تھا، چہرے پر ملاحت تھی۔ امام مسلم بن حجاج نے کہا: حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ ایک سو ہجری میں فوت ہوئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے آخری فوت ہوئے تھے۔“

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ رَجُلٌ رَآهُ غَيْرِي ، قَالَ ، فَقُلْتُ لَهُ : فَكَيْفَ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : كَانَ أَبْيَضَ ، مَلِيحًا ، مُقَصَّدًا " .

عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اب زمین پر سوا میرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والوں میں سے کوئی نہیں رہا۔ (راوی حدیث جریری) کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ ملاحت لیے ہوئے تھا، میانہ قامت تھے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2340
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2340 | سنن ابي داود: 4864

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
جریری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،میں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں، آپ کا رنگ سفید تھا، چہرہ ملیح یعنی حسین تھا، امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں، حضرت ابوطفیل 100ھ میں فوت ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سب سےآخر میں مرنے والے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6071]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سب سے آخر میں مرنے والے صحابی ہیں، لیکن سن وفات میں اختلاف ہے، 102ھ، 107ھ، 110ھ، مختلف اقوال ہیں۔
لیکن آپ کا دس ہجری میں فرمانا کہ آج سے سو سال بعد کوئی اس وقت کے موجود لوگوں میں سے زندہ نہیں رہے گا کہ تقاضا کہ آخری قول صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2340 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2340 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور اب میرے سوا روئے زمین پر آپ کو دیکھنے والا کوئی شخص نہیں ہے، جریری کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا، تو آپﷺ کو کیسے (کس حالت میں) دیکھا، انہوں نے کہا، آپ سفید رنگ، حسین دومیانہ قد تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6072]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
مليح: حسین، خوبصورت، نمکینی رنگ۔
(2)
مُقصد: معتدل، نہ دراز اور نہ پستہ، نہ موٹے اور نہ نحیف و نزار۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2340 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4864 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پیدل چلنے والے کی چال کا بیان۔`
سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کو کیسا دیکھا؟ وہ کہا: آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4864]
فوائد ومسائل:
طاقت ور صحت مند اور چاق و چوبند آدمیوں کی چال بالعموم ایسے ہی ہوا کرتی ہے۔
تواضع کے نام سے ایسی ڈھیلی ڈھیلی چال چلنا گویا کوئی، مریض جا رہا ہو ممدوح (پسندیدہ) نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4864 سے ماخوذ ہے۔