صحيح مسلم
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل
باب الذِّكْرِ الْمُسْتَحَبِّ عَقِبَ الْوُضُوءِ: باب: وضو کے بعد کیا پڑھنا چاہیے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الإِبِلِ ، فَجَاءَتْ نَوْبَتِي ، فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا أَجْوَدَ هَذِهِ ؟ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ ، يَقُولُ : الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا عُمَرُ ، قَالَ : إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا ، قَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ ، فَيُبْلِغُ ، أَوْ فَيُسْبِغُ الْوَضُوءَ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ ،عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں معاویہ بن صالح نے ربیعہ بن یزید کے حوالے سے ابوادریس خولانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اسی طرح (معاویہ نے) کہا: مجھے ابوعثمان نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا، میری باری آئی، تو میں شام کو انہیں چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ ارشاد فرما رہے تھے، مجھے آپ کی یہ بات (سننے کو) ملی: ”جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“ میں نے کہا: ’کیا خوب بات ہے یہ!‘ تو میرے سامنے ایک شخص کہنے لگا: ’اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔‘ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: ’میں نے دیکھا ہے کہ تم ابھی آئے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے پہلے) فرمایا تھا: ”تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے (یا اچھی طرح وضو کرے) پھر یہ کہے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“‘
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، وَأَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرِ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ ہاں اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جس نے وضو کرنے کے بعد کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ ٱللَّٰهِ وَرَسُولُهُ»۔“ (یعنی: دعائیہ کلمات میں کچھ اضافہ ہے)
تشریح، فوائد و مسائل
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو اچھی طرح وضو کرے، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی " ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 151]
➋ وضو کے بعد دو رکعتیں پڑھنا مستحب ہے اور انہیں مکمل خشوع و خضوع سے ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ جنت واجب کرنے کا ذریعہ ہیں۔
➌ جو شخص یہ عمل کرتا ہے، اس کے لیے ایمان پر موت آنے کی خوشخبری بھی ہے کیونکہ جنت میں صرف مومن جان ہی داخل ہو گی۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔" [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 906]
وضو وہی اچھا ہو سکتا ہے۔ جو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو اعضاء کامل دھوئے جائیں۔ پانی کا ضیاع نہ ہو اور شروع میں بسم اللہ اور آخر میں دعا بھی پڑھے۔
➋ دل کے خیالات اور وسوسوں سے بچنے کی ظاہری صورت یہ ہے کہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اپنی نظر اور چہرے کو سجدے کی جگہ پر مرکوز رکھے۔ اور معنوی اعتبار سے آیات و اذکار کے معانی و مفاہیم پر غور کرے۔ اور اس طرح عبادت کرے گویا اللہ دیکھ رہا ہے، یا یہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اور سمجھے کہ شائد میری یہ آخری نماز ہے۔ علاوہ ازیں علمائے صالحین کی صحبت اور کتب احادیث میں زہد اور رقاق کے ابواب کا بکثرت مطالعہ انسان کے لئے حسن عبادت کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہ ماثور دعا اپنا معمول بنائے۔ «اللهم اعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» "اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہترین عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔"[سنن ابودائود حديث 1522]
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:ما منكم من احد يتوضا فيسبغ الوضوء، ثم يقول: اشهد ان لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، واشهد ان محمدا عبده ورسوله، إلا فتحت له ابواب الجنة الثمانية، يدخل من ايها شاء . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے پھر یوں کہے «أشهد أن لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» کہ میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں اور نیز میں اس بات کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں مگر اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ اب جس دروازے سے چاہے داخل جنت ہو . . ." [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 52]
«اِلَّا فُتِحَتْ» یہ «اِلَّا» استثنا کا ہے، اس سے مقصود کلام اول میں موجود نفی سے استثنا ہے اور یہ اسلوب عبارت کلام میں حصر پیدا کرنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔
«فُتِحَتْ» صیغہ مجہول ہے اس صورت میں معنی یہ ہیں کہ قیامت کے روز کھولے جائیں گے۔ صیغۂ ماضی سے تعبیر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اس کا وقوع یقینی اور حتمی ہے۔ جس طرح گزرے ہوئے زمانے کا یقین ہوتا ہے، اسی طرح اس کا واقع ہونا بھی یقینی اور لابدی امر ہے۔
«وَزَادَ» یعنی امام ترمذی نے «مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» نقل کرنے کے بعد «اَللّهُمَّ اجْعَلْنِي۔۔۔ إلخ» کے الفاظ مزید نقل کیے ہیں۔
«اَلتَّوَّابُ» میں "واؤ" مشدد ہے۔ اس کے معنی ہیں: کثرت سے توبہ کرنے والا شخص۔
راویٔ حدیث:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مراد عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کی کنیت ابوحفص ہے۔ نادر الوجود شخصیت تھے۔ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ انہوں نے آفاق ارض کو حکم، عدل اور فتوحات سے بھر دیا تھا۔ دور جاہلیت میں قبیلہ قریش کے سفیر تھے۔ 6 نبوت ذی الحجہ کو دار ارقم میں دست نبوت پر بیعت کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ ان کے قبول اسلام میں ان کے بہنوئی سعید اور بہن فاطمہ رضی اللہ عنہما کا بڑا کردار ہے۔ سارے غزوات میں شریک رہے۔ ان کے عہد خلافت میں فتوحات کا سیلاب امنڈ آیا تھا۔ عراق، فارس، شام اور مصر وغیرہ کے علاقے اسلامی سلطنت کی حدود میں شامل ہوئے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مجوسی غلام ابولؤلؤ کے قاتلانہ حملے سے یکم محرم، 24 ہجری میں شہادت پائی۔