حدیث نمبر: 2335
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، نَكَسَ رَأْسَهُ ، وَنَكَسَ أَصْحَابُهُ رُءُوسَهُمْ ، فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ ، رَفَعَ رَأْسَهُ .

ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی جاتی تو آپ اپنا سر مبارک جھکا لیتے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی سر جھکا لیتے اور جب (یہ کیفیت) آپ سے ہٹا لی جاتی تو آپ اپنا سر اقدس اٹھاتے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2335
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی جاتی، آپ اپنا سرجھکالیتے اور آپ کے ساتھی اپنے سرجھکا لیتے اور جب منقطع ہو جاتی، اپنا سر اٹھا لیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6061]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
اتلي عنه: وحی اٹھ جاتی، یعنی اس کی آمد بند ہو جاتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2335 سے ماخوذ ہے۔