حدیث نمبر: 2334
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، كُرِبَ لِذَلِكَ ، وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ " .

سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حطان بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بنا پر کرب کی سی کیفیت سے دوچار ہو جاتے اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2334
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی طاری ہوجاتی تو اس پر آپ کرب وتکلیف میں مبتلا ہو جاتے اور آپ کا چہرہ خاکستری رنگ کا ہوجاتا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6060]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يفصم: رک جانا، بند ہو جانا یا کیفیت کا چھٹ جانا۔
(2)
كُرب: کرب و اذیت محسوس کرنا۔
(3)
تربد: متغیر ہو جانا، سیاہی مائل ہو جانا، یعنی وحی کی شدت کی بنا پر چہرے کا رنگ فق ہو جاتا، کیونکہ قول ثقیل کے نزول کی بنا پر، آپ تکلیف اور مشقت سے گزرتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2334 سے ماخوذ ہے۔