حدیث نمبر: 2333
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ لَيُنْزَلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ، ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا " .

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: سخت سردی کی صبح وحی نازل ہوتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔“

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ : أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، ثُمَّ يَفْصِمُ عَنِّي ، وَقَدْ وَعَيْتُهُ ، وَأَحْيَانًا مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ ، فَأَعِي مَا يَقُولُ " .

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کبھی وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وحی منقطع ہوتی ہے تو میں اس کو یاد کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے میں اسے یاد رکھتا ہوں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2333
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، ٹھنڈی یا سرد صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہوتا، پھر آپﷺ کی پیشانی سے پسینہ بہہ نکلتا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6058]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: وحی کی آمد پر چونکہ آپ کو سخت مشقت سے گزرنا پڑتا، اس لیے سردی کے باوجود آپ کی پیشانی پسینہ سے شرابور ہو جاتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2333 سے ماخوذ ہے۔