صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ: باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کا خوشبودار اور متبرک ہونا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَامْ عِنْدَنَا ، فَعَرِقَ ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ ، فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ ؟ قَالَتْ : هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا ، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا ، وَلَيْسَتْ فِيهِ ، قَالَ : فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا ، فَأُتِيَتْ ، فَقِيلَ لَهَا : هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَامَ فِي بَيْتِكِ ، عَلَى فِرَاشِكِ ، قَالَ : فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ ، فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا ، فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا ، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا ، قَالَ : أَصَبْتِ " .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر میں جاتے اور ان کے بستر پر سوجاتے، جبکہ وہ گھر میں نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور اس کے بستر پر سو گئے۔ اس کے پاس آکر اسے بتایا گیا، یہ نبی اکرم ﷺ تیرے گھر میں، تیرے بستر پر سو چکے ہیں، وہ آئیں اور ےپﷺ کو پسینہ آ چکا تھا، بستر پر ایک چمڑے کے ٹکڑے میں، آپ کا پسینہ جمع ہو چکا تھا تو اس نے اپنا صندوقچہ کھولا اور اس پسینہ کو چوسنے لگیں اور اپنی شیشی میں نچوڑ لیتیں تو نبی اکرمﷺ گھبرا کر اٹھے اور پوچھا ”کیا کر رہی ہو؟ اے ام سلیم!‘‘ اسے نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اپنے بچوں کے لیے اس کی برکت کے امید وار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے درست رائے قائم کی۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ بال اسی وقت لے لئے تھے جب آپ نے منیٰ میں سر منڈایا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا آپ کے بدن کا پسینہ جمع کر رہی تھیں اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جاگے تو فرمایا ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو۔
انہوں نے کہا کہ میں آپ کا پسینہ خوشبو میں ڈالنے کے لئے جمع کرتی ہوں وہ خود بھی نہایت خوشبودار ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ ہم برکت کے لئے آپ کا پسینہ اپنے بچوں کے واسطے جمع کرتی ہوں چنانچہ حنوط میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بال اور پسینہ ملا ہوا تھا ولا معارضة بین قولھا إنھا کانت تجمعه لأجل طیبة وبین قولھا للبرکة بل یحمل علی أنھا کانت تفصل ذلك الأمرین معا (فتح)
یعنی یہ کام برکت اورخوشبو ہر دو مقاصد کے لئے کیا کرتی تھیں۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بزرگانِ دین کا اپنے عقیدت مندوں، رشتے داروں اور معتبر دوست احباب کے ہاں قیلولہ کرنا جائز ہے۔
اس سے محبت بڑھتی ہے۔
(2)
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور آپ نے ہمارے ہاں قیلولہ فرمایا تو آپ کو پسینا آ گیا۔
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا شیشی لے کر آئیں اور اس پسینے کو جمع کرنا شروع کر دیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: ’’ام سلیم! تم یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: آپ کا پسینہ جمع کر رہی ہوں، ہم اسے خوشبو میں ڈالیں گے تو یہ تمام خوشبوؤں میں سے اعلیٰ خوشبو ہوگی۔
ایک روایت میں ہے کہ یہ ہمارے بچوں کے لیے باعث خیرو برکت ہوگا۔
(صحیح مسلم، الفضائل،حدیث: 6056(2331)
(1)
نطع: چمڑے کا بچھونا۔
(2)
أدوف: میں ملا لیتی ہوں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھال پر لیٹے تو آپ کو پسینہ آ گیا، ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں اور پسینہ اکٹھا کر کے ایک شیشی میں بھرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ” ام سلیم! یہ تم کیا کر رہی ہو؟ “ وہ بولیں: میں آپ کے پسینے کو عطر میں ملاؤں گی، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5373]
(2) یہ حدیث مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ انسان کا چمڑا، اس کا پسینہ اور اسی طرح انسانی بال بھی پاک اور طاہر ہیں، نیز اس سے قیلولے کی مشروعیت بھی ثابت ہوئی۔
(3) ”چمڑے کا بچھونا“ کپڑے کی چادر سے بہر صورت بہتر ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اچھی چیز کا استعمال معیوب نہیں۔
(4) ”استراحت فرما ہوئے“ پیچھے گزرچکا ہے کہ حضرت ام سلیم اور حضرت ام حرام سے جوکہ بہنیں تھیں، آپ کا کوئی ایسا رشتہ تھا جس کی بنا پر وہ آپ کی محرم تھیں، اس لیے آپ کبھی کبھی ان کے گھروں میں جاتے تھے اور کبھی استرحت بھی فرماتے تھے۔
(5) ”اکٹھا کرکے“ عربی میں لفظ نشَّفَتْهُ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنیٰ خشک کرنے کے ہیں۔ گویا انہوں نے کسی کپڑے میں پسینہ جذب کر لیا اور وہ کپڑا اپنی خوشبو میں نچوڑ لیا یا خالی شیشی میں۔ واللہ أعلم۔
(6) ”مسکرانے لگے“ ان کے حسن عقیدت پر اور حسن ادب کو دیکھ کر۔ یہ بحث پیچھے گزر چکی ہے کہ ایسا تبرک صرف رسول اللہ ﷺ سے خاص تھا۔