صحيح مسلم
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل
باب الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ. باب: بیان ہے کہ پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں جو ان کے درمیان میں کیے جائیں اگر کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ كلهم ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصَّلاةُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ ، كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ ، مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ " .علاء نے اپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور (ہر) جمعہ (دوسرے) جمعہ تک اور (ہر) رمضان (دوسرے) رمضان تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " .محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ (دوسرے) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔“
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاق مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”پانچ نمازیں، جمعہ سے اگلے جمعہ تک، رمضان اگلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں جب کہ انسان کبیرہ گناہوں سے بچے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
: مَا لَمْ تُغْشَ: غشيان کا اصل معنی ’’کسی کے پاس آنا ہے‘‘ کہتے ہیں: "غَشِيَ فُلَانًا" ’’فلاں کے پاس آیا‘‘ یہاں مقصد گناہوں کا ارتکاب ہے، جس کو آگے اجتناب الکبائر، بڑے گناہوں سے بچنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔
انسان سے مختلف قسم کے گناہ اور قصور سرزد ہوتے رہتے ہیں، اس لیے مختلف گناہوں کے لیے مختلف قسم کی عبادات کفارہ بنتی ہیں، کچھ وضو سے معاف ہوتے ہیں، کچھ کا کفارہ نماز بنتی ہے اور بعض گناہ جمعہ سے معاف ہوتے ہیں، بعض کی بخشش روزے سے ہوتی ہے، اسی طرح اور عبادات ہیں، لیکن کبیرہ گناہوں کی آلودگی اور نجاست اس قدر غلیظ ہوتی ہے اور اس کے قبیح اثرات اس قدر گہرے اور پختہ ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف تو بہ واستغفار سے ہو سکتا ہے۔
ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی پر خصوصی رحم فرما کر یونہی معاف کر دے، تو اس کا فضل وکرم انتہائی وسیع ہے، وہ کسی کا پابند نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ہے: ’’اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے، تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے۔
‘‘ (النِّساء: 31)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1086]
فائدہ: (1)
صغیرہ گناہ نیکیوں کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔
(2)
کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتےہیں۔
(3)
بعض کبیرہ گناہ ایسے ہوتے ہیں۔
کہ ان کی موجودگی میں نیک اعمال کرنے کے باوجود صغیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے۔