صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ: باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کی خوشبو اور نرمی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2329
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَهُوَ ابْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَى ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ ، فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا ، قَالَ : وَأَمَّا أَنَا ، فَمَسَحَ خَدِّي ، قَالَ : فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا ، أَوْ رِيحًا ، كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ " .سماک نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر جانے کو نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا۔ سامنے کچھ بچے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک بچے کے رخسار پر ہاتھ پھیرا اور میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں وہ ٹھنڈک اور وہ خوشبو دیکھی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبو ساز کے ڈبہ میں سے ہاتھ نکالا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کی طرف نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا۔ تو سامنے سے کچھ بچے آئے اور آپ ایک ایک کر کے ان کے رخساروں پر ہاتھ پھیرنے لگے اور آپﷺ نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا، میں نے آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کی یا مہک، گویا آپ نے اسے عطر فروش کی ڈبیہ سے نکالا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6052]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
جونة يا جونه: ڈبیہ۔
عطار، خوشبو بیچنے والا۔
جونة يا جونه: ڈبیہ۔
عطار، خوشبو بیچنے والا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2329 سے ماخوذ ہے۔