صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ: باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقام نہ لیتے مگر اللہ کے واسطے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ ، إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا ، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا ، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کے انتخاب اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار کیا۔ بشرطیکہ گناہ کا باعث نہ ہوتا، اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کی خاطر بدلہ نہیں لیا۔ الا یہ کہ کوئی اللہ عزوجل کی حرام کردہ چیز کا مرتکب ہوتا (اس کی حرمت کوپامال کرتا۔)
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ ، وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتےہیں۔
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ .یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے مانند روایت کی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا ، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں۔ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کے اننتخاب کا اختیار دیا گیا، آپﷺ نے دونوں میں سے آسان تر کو پسند فرمایا، بشرطیکہ وہ گناہ کا باعث نہ ہو، اگر وہ گناہ کا کام ہوتا، آپﷺ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : أَيْسَرَهُمَا ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ .امام صاحب کے دو اساتذہ یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن، آسان تر تک بیان کرتے ہیں، بعد والا حصہ بیان نہیں کرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس طرح گستاخانہ رویہ اختیار کرنے والوں کو معاف فرمایا، بعض دفعہ اللہ کی ناراضی سے بچنے اور دوبارہ اس کام سے روکنے کی خاطر تادیب و سرزنش کے طور پر بدلہ لیا، جیسا کہ لدود کرنے والوں روکنے کے باوجود نہ رکنے پر لدود کروایا۔
(1)
حدیث میں مذکور اختیار اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے دو امور میں اختیار نہیں دیتا جن میں سے ایک گناہ ہو اور نہ اخروی امور ہی میں اختیار دیا جاتا تھا کیونکہ اخروی امور اگر مشکل ہوں تو انھیں کرنے میں ثواب زیادہ ہوتا ہے، اگر دینی امور میں اختیار دیا جاتا جن میں ایک کا انجام گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے کو اختیار کرتے جیسا کہ مجاہدہ اور میانہ روی میں اختیار دیا جاتا تو میانہ روی کو پسند کرتے کیونکہ وہ مجاہدہ جو ہلاکت تک پہنچا دے وہ گناہ ہے۔
(2)
اس حدیث سے حدود اللہ کی اہمیت کا پتا چلتا ہے کہ ان کے پامال ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور انتقام لیتے، حالانکہ ذاتی معاملات میں انتقام لینا آپ کا شیوا نہ تھا۔
بہرحال حدود اللہ کی پامالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برداشت نہ تھی۔
واللہ أعلم
گناہوں کے کاموں میں اختیار دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کی طرف سے اگر کسی گناہ کے کام کا اختیار دیا جاتا تو آپ اس سے دور رہتے اور اللہ تعالیٰ یا مسلمانوں کی طرف سے اختیار دیے جانے کا مطلب ہے کہ وہ آسانی گناہ تک پہنچانے والی نہ ہوتی، مثلاً! عبادت میں مشقت اور میانہ روی کے درمیان اختیار دیا جائے اور اگر وہ مشقت ہلاکت تک پہنچانے والی ہوتی تو آپ میانہ روی کو پسند کرتے۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر آسانی اور تخفیف کو پسند فرماتے تھے۔
قریشی اسدی سنہ220ھ میں پیدا ہوئے۔
یہ مدینہ کے سات فقہاء میں شامل ہیں۔
ابن شہاب نے کہا کہ عروہ علم کے ایسے دریا ہیں جو کم ہی نہیں ہوتا۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہ کے ارتکاب پر مارتے تھے، اپنے ذاتی معاملات میں آپ نے کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا بلکہ درگزر اور معافی سے کام لیا ہے، البتہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی حدیں توڑتا آپ اسے ضرور سزا دیتے تھے جیسا کہ غزوۂ تبوک میں جان بوجھ کر پیچھے رہنے والے تین صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سوشل بائیکاٹ کیا تھا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت کے معاملے میں قید کیا۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3630) (2)
بہرحال تعزیروتنبیہ کا معاملہ وقت، حالات اور افراد کے پیش نظر کم اور زیادہ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے متعلق کوئی پیمانہ مقرر نہیں ہے۔
واللہ أعلم
اس لیے قیام امن کے واسطے ان فساد پسندوں کو ختم کرایا گیا۔
ورنہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگر آپ اپنی ذات کے لیے بدلہ لیتے تو اس یہودن کو ضرور قتل کراتے جس نے دعوت دے کر بکری کے گوشت میں زہر ملا کے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا، یا اس منافق کو قتل کراتے جس نے مال غنیمت کی تقسیم پر آپ کی دیانت پر شبہ کیا تھا مگر ان سب کو معاف کردیا گیا۔
جان سے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بے دردی سے قتل کرنے والا حبشی بن حرب جب آپ کے سامنے آیا توآپ کو سخت تکلیف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ آپ نے اسے معافی دی بلکہ اس کا اسلام بھی قبول کیا اور فتح مکہ کے دن تو آپ نے جو کچھ کیا اس پر آج تک دنیا حیران ہے۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوکاموں سے ایک کو اختیار کرنے کی دوقسمیں ہیں: ایک یہ کہ مذکورہ اختیار کفار کی طرف سے دیاجاتا،اس اختیار میں کسی گناہ کا اختیار بھی ہوسکتاہے،ایسی صورت میں آپ گناہ کا کام نہ کرتے مثلاً: اللہ کی نافرمانی یا قطع رحمی کی کسی صورت میں اختیار نہ کرتے۔
دوسری قسم یہ ہے کہ اختیار اللہ یا اہل ایمان کی طرف سے ہوتا،مثلاً: عبادت میں مبالغہ اور میانہ روی کا اختیار دیا جاتا تو آپ میانہ روی کو اختیارکرتے کیونکہ جو مجاہدہ یا مبالغہ انسان کو ہلاکت تک پہنچادے یا دوسروں کی تکلیف کا باعث بنے توآپ اسے اختیار نہ کرتے۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ آسان کام کو اختیار کرنا چاہیے۔
3۔
حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیں اور اللہ کے حق کو بے کار نہ چھوڑیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن خطل اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کردیا تھا،یہ ذاتی انتقام کانتیجہ نہ تھا بلکہ دینی حرمات کی پامالی ان کے قتل کی محرک تھی۔
واللہ أعلم۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4785]
1) معاملات دین کے ہوں یا دنیا کے بندے کو چاہیئے کہ آسان جانب اختیار کرے اور پھر اخلاص اور پابندی کے ساتھ اس پر عمل پیرا رہے۔
یہ اس سے زیادہ افضل ہے کہ پُر مشقت عمل ایک دو بار کر کےچھوڑ دیا جائے۔
2) انسان اپنی ذات کے لیئے انتقام سے بالا تر تو اس میں بری فضیلت ہے۔
3) اللہ کی حرمتوں کی پامالی پر اللہ کے لیے غضبناک ہونا ایمان کا حصہ ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا، اور نہ کبھی کسی عورت کو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4786]
افضلیت اس میں ہے کی اپنے زیردست کو جسمانی سزا نہ دی جائے اور جہاں تک ہو سکے زبانی فہمائش سے کام لیا جائے۔
تاہم اگر کوئی زبانی نصیحت یا روئیے کا نہ سمجھتا ہو تو مناسب سزا دینا جائز ہے۔
جیسے بد خوبیوں کے سلسلے میں قرآن مجید میں ارشاد الٰہی ہے اور جنکی بد خوئی کا تمھیں اندیشہ ہو تو انھیں سمجھاؤ بستروں سے علیحدہ کردو اور مارو۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے مارا، نہ کسی عورت کو، اور نہ کسی بھی چیز کو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1984]
فوائد و مسائل:
(1)
رحمت و شفقت قابل تعریف صفت ہے۔
(2)
جہاں تک ممکن ہو بیوی بچوں اور نوکروں کو جسمانی سزا دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(3)
غصے میں آکر جانوروں کو مار پیٹ کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔
«. . . انها قالت: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم فى امرين إلا اخذ ايسرهما ما لم يكن إثما. فإن كان إثما كان ابعد الناس منه. وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه إلا ان تنتهك حرمة هي لله فينتقم لله بها . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن دو کاموں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کام ہی اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ والا (ناجائز) کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے لئے کسی سے کبھی انتقام نہیں لیا الا یہ کہ اللہ کی مقرر کردہ حرمت کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو اس صورت میں آپ اللہ کے لئے اس کا انتقام لیتے تھے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 623]
[وأخرجه البخاري 3560، ومسلم 2327/77، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دین و دنیا میں سختی سے اجتناب کر کے آسانی والا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
➋ سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے (اپنے شاگردوں سے) پوچھا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو بہت سی نمازوں اور صدقے سے بہتر ہے؟ شاگردوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان صلح کرا دینا اور بغض و عداوت سے بچو کیونکہ یہ (نیکیوں کو) مونڈ (کر ختم کر) دیتا ہے۔ [موطأ الامام مالك، رواية يحييٰ 904/2 ح 1741، وسنده صحيح]
● یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ آدمی حسن اخلاق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بر روزہ رکھنے والے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔“ [موطأ الامام مالك، رواية يحييٰ 904/2 ح 1740، وسنده صحيح]
➌ دین اسلام کے لئے انتقام اور بدلہ لینا صحیح ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک بدعتی (تقدیر کے منکر) نے سلام بھیجا تھا مگر انہوں سلام کا جواب نہیں دیا اور بدعتیوں سے برأت کا اعلان کیا۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 2152 وقال الترمذي: ”هذا حديث حسن صحيح غريب“]