مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وهارون بن عبد الله جميعا ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ ، جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا ، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ، فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا " .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے، مدینہ کے نوکر چاکر، اپنے اپنے پانی کےبرتن لاتے تو جو برتن بھی لایا جاتا، آپﷺ اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے، بسا اوقات وہ انتہائی ٹھنڈی صبح آپﷺ کے پاس آتے تو آپ برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2324
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے، مدینہ کے نوکر چاکر، اپنے اپنے پانی کےبرتن لاتے تو جو برتن بھی لایا جاتا، آپﷺ اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے، بسا اوقات وہ انتہائی ٹھنڈی صبح آپﷺ کے پاس آتے تو آپ برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6042]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ مہر و محبت کا تعلق رکھتے اور زیردست لوگ بھی بلاتکلف آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور آپ کے دست مبارک کے لمس سے برکت حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے پانی کے برتن پیش کرتے اور آپ ان کی تمنا و آرزو کی تکمیل کی خاطر، مشقت برداشت کرتے ہوئے سخت سردی کے موسم میں بھی ان کے برتنوں میں ہاتھ ڈال دیتے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2324 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔