حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْكُوفَةِ ، فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا ، وَلَا مُتَفَحِّشًا ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا " ، قَالَ عُثْمَانُ : حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ .

زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے مسروق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ہم (ان کے ساتھ آنے والے) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے جا کر ملے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طبعاً زبان سے کوئی بری بات نکالنے والے تھے اور نہ تکلف کر کے برا کہنے والے تھے، نیز انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سب سے اچھے لوگ وہی ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔“عثمان (بن ابی شیبہ) نے کہا: جس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ آئے تھے۔“

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

امام صاحب یہی روایت تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2321
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6035

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6035 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6035. حضرت مسروق سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جبکہ وہ ہمیں حدیثیں سنا رہے تھے اس دوران میں انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ بد زبانی نہیں کرتے تھے اور نہ بے ہودہ باتیں ہی کرتے تھے بلکہ آپ فرمایا کرتے تھے: "تم میں سے زیادہ اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6035]
حدیث حاشیہ:
(1)
حسن خلق بہت بڑی دولت ہے۔
قیامت کے دن میزان اعمال سے سب سے زیادہ وزن حسن اخلاق کا ہوگا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’کوئی چیز حسن خلق سے بڑھ کر ترازو میں وزنی نہیں ہوگی۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4799)
قیامت کے دن اچھے اخلاق کے حامل اہل ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور آپ کے قریب بیٹھنے والے ہوں گے۔
(الأدب المفرد، حدیث: 272)
جنت میں اکثر لوگوں کا داخلہ تقوی شعاری اور خوش اخلاقی کی بنا پر ہوگا۔
(سنن ابن ماجة، الزھد،حدیث: 4246) (2)
اس میں شک نہیں کہ حسن حلق ایک فطری عطیہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ نے رزق کی طرح حسن خلق کی تقسیم بھی پہلے سے کررکھی ہے۔
(مسند أحمد: 387/1، وسلسلة الأحادیث الصحیحة: 482/6، رقم: 2714)
جس انسان میں حسن اخلاق پیدائشی نہ ہو اسے کوشش اور محنت کر کے اسے حاصل کرنا چاہیے کیونکہ بداخلاقی انسانی وقار کے منافی ہے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 564/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6035 سے ماخوذ ہے۔