صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب رَحْمَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ: باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا بیان جو بچوں بالوں پر تھی اور اس کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ ، فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ ، وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا ، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ " ، قَالَ عَمْرٌو : فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي ، وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ ، وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُكَمِّلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ " .عمرو بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنی اولاد پر شفیق نہیں دیکھا، (آپ کے فرزند) ابراہیم مدینہ کی بالائی بستی میں دودھ پیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے، آپ گھر میں داخل ہوتے تو وہاں دھواں ہوتا کیونکہ ابراہیم کا رضاعی والد لوہار تھا۔ آپ بچے کو لیتے، اسے پیار کرتے اور پھر لوٹ آتے۔ عمرو (بن سعید) نے کہا: جب ابراہیم فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ دودھ پینے کے ایام میں فوت ہوا ہے، اس کی دودھ پلانے والی دو مائیں ہیں جو جنت میں اس کی رضاعت (کی مدت) مکمل کریں گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ظِئر: بچے کو دودھ پلانے والی عورت اور اس کے خاوند دونوں پر ظئر کا اطلاق ہوتا ہے، گویا یہ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل: حضرت ابراہیم 8ھ کو ماہ ذوالحجہ میں پیدا ہوئے تھے اور سولہ، سترہ ماہ کی عمر میں وفات پا گئے تھے اور ان کی مدت رضاعت کی تکمیل جنت میں ہوئی۔