صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب رَحْمَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ: باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا بیان جو بچوں بالوں پر تھی اور اس کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ كلاهما ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو سَيْفٍ ، فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ ، وَاتَّبَعْتُهُ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ ، قَدِ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ : أَمْسِكْ ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمْسَكَ ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، فَقَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَدْمَعُ الْعَيْنُ ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا ، وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ " .حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے تومیں نے اس کا نام اپنے باپ کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اسے ایک لوہار کی بیوی ام سیف کے سپرد فرمایا، لوہار کو ابوسیف کہتے تھے، آپ ﷺ اس کے ہاں جانے کے لیے چلے تو میں بھی آپﷺ کے پیچھے ہو لیا۔ ہم ابو سیف کے پاس پہنچے، جبکہ وہ بھٹی دھونک رہا تھا اور گھر دھوئیں سے بھرا گیا تھا تو میں جلدی جلدی آپ کے آگے چلا او رمیں نے کہا، ابو سیف رک جا، رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں، وہ رک گیا تو نبی اکرم ﷺ نے بچے کو منگوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اللہ کو جو منظورتھا، کہا، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میں نے اسے دیکھا، رسول اللہ کے سامنے ا س کی جان نکل رہی تھی تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا، ”آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمزدہ ہے اور ہم زبان سے صرف رہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہے، اللہ کی قسم، اے ابراہیم!ہم تیرے فراق پر غمگین ہیں۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
قين: لوہار۔
(2)
يكيد بنفسه: اس کی جان نکل رہی ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اولاد کی وفات پر آنسو بہانا اور دل کا رنجیدہ ہونا ایک طبعی چیز ہے، جو صبر کے منافی نہیں ہے، لیکن زبان سے کوئی ایسا کلمہ یا بول نہیں نکالا جائے گا، جو جزع فزع پر دلالت کرتا ہو یا اللہ کے فیصلہ پر ناگواری ظاہر کرتا ہو۔