حدیث نمبر: 2313
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، غَزْوَةَ الْفَتْحِ ، فَتْحِ مَكَّةَ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ، ثُمَّ مِائَةً ، ثُمَّ مِائَةً " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ صَفْوَانَ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أَعْطَانِي ، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي ، حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ .

یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے، پھر سو اونٹ پھر سو اونٹ۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فرمایا، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2313
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابن شہاب بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح مکہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مسلمانوں ساتھیوں کے ساتھ نکلے اور حنین میں جنگ لڑی تو اللہ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی نصرت فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے اس دن صفوان بن امیہ کو سو اونٹ دیے، پھر سو اونٹ دیئے، ابن شہاب کہتے ہیں مجھے سعید بن المسیب نے بتایا، صفوان نے کہا، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا فرمایا، جو بھی عطا فرمایا، جبکہ آپﷺ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ مبغوض تھے،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6022]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: صفوان بن امیہ جنگ حنین کے وقت مشرک تھا اور فتح مکہ کی بنا پر آپ کا شدید مخالف تھا، لیکن آپ نے تالیف قلبی کرتے ہوئے، اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں اس کو غنائم حنین سے اتنا کچھ دیا کہ وہ اسلام لانے پر مجبور ہو گیا، کیونکہ وہ سمجھ گیا کہ یہ کام پیغمبر کے بغیر کوئی اور دنیوی لیڈر یا سردار نہیں کر سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2313 سے ماخوذ ہے۔