حدیث نمبر: 2312
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ ، قَالَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ " .

موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لانے) پر جو بھی چیز طلب کی جاتی آپ وہ عطا فرماتے، کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا: میری قوم! مسلمان ہو جاؤ بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، فَأَتَى قَوْمَهُ ، فَقَالَ : " أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا ، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ ، فَقَالَ أَنَسٌ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا ، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا " .

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرمﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان چرنے والی بکریاں مانگیں، آپ نے اسے وہ دے دیں، سو وہ اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا، اے میری قوم، اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! محمد ﷺ اس قدر عطیہ دیتا ہے کہ وہ فقر و فاقہ کا اندیشۂ ہی نہیں رکھتا، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ایک انسان محض دنیا کر خاطر مسلمان ہوتا تو اسلام لانے کے بعد اسے اسلام دنیا اور اس کی ہر چیز سے محبوب ہوجاتا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2312
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےاسلام لانے کے وقت جوکچھ مانگ لیا جاتا تھا، آپ عنایت فرما دیتے، آپ کے پاس ایک آدمی آیا تو آپ ﷺ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں دے دیں تو وہ اپنی قوم کے پاس جا کر کہنے لگا، اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، کیونکہ محمد ﷺ اس قدر عنایت فرماتا ہے کہ اسے فقرو فاقہ کا خدشہ ہی نہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6020]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: غنما بين جبلين: دو پہاڑوں کے درمیان کے علاقہ کو بھر دینے والی بکریاں، آپ نے صفوان بن امیہ کو حنین کی غنیمت سے بہت سی بکریاں عطا فرمائیں کہ آپ کے اس قدر عطیہ سے اسے محسوس ہو گا کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں، جو بلا خوف و خطر، اس قدر سخاوت کرتے ہیں، اس لیے اس نے اپنی قوم کو بھی مسلمان ہونے کی دعوت دی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2312 سے ماخوذ ہے۔