حدیث نمبر: 2310
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ إِسْحَاق : قَالَ أَنَسٌ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا ، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ ، لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَقَالَ : يَا أُنَيْسُ ، أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ ، قَالَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ،

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق سب سے اچھا تھا، آپﷺ نے ایک دن ایک ضرورت کے لیے مجھے بھیجتا چاہا تو میں نے کہا، الہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا اور میرے جی میں یہی تھا کہ اللہ کے نبی نے جس مقصد کے لیے مجھے بھیجنا چاہا ہے، میں اس کے لیے جاؤں گا۔ سومیں نکلا، حتی کہ بچوں کے پاس سے گزرااور وہ بازار میں) کھیل رہے تھے، (میں ان کے پاس رک گیا) اچانک رسول اللہ ﷺ نے پیچھے سے آ کر میری گدی کوپکر لیا تومیں نے آپﷺ کر طرف دیکھا اور آپ ہنس رہے تھے، آپﷺ نے فرمایا: ”اے انیس! کیا جدھر میں نے تمہیں بھیجا تھا ادھر گئے ہو؟‘‘ میں کہا، جی ہاں میں جاتا ہوں، اے اللہ کے رسول!

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا " .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ کا اخلاق سب لوگوں سےاچھا تھا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2310
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق سب سے اچھا تھا، آپﷺ نے ایک دن ایک ضرورت کے لیے مجھے بھیجتا چاہا تو میں نے کہا، الہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا اور میرے جی میں یہی تھا کہ اللہ کے نبی نے جس مقصد کے لیے مجھے بھیجنا چاہا ہے، میں اس کے لیے جاؤں گا۔ سومیں نکلا، حتی کہ بچوں کے پاس سے گزرااور وہ بازار میں) کھیل رہے تھے، (میں ان کے پاس رک گیا) اچانک رسول اللہ ﷺ نے پیچھے سے آ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6015]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ لڑکپن کے بھول پن کی بنا پر، بسا اوقات جو کام کرنا چاہتے ہوتے، اس کے بارے میں بھی قسمیہ انداز میں کہہ دیتے کہ میں نہیں کروں گا، لیکن آپ اس کا برا نہ مناتے اور یہی سمجھتے یہ نادانی کے طور پر یہ کہہ رہا ہے، کام یہ کرے گا، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ جاتے تو آپ ان پر نظر رکھتے، وہ بچوں کو کھیل میں مشغول دیکھ کر، ان کے پاس کھڑے ہو جاتے تو آپ چپکے سے پیار و محبت سے پیچھے سے ان کی گردن دبوچ لیتے، لیکن غصے کا اظہار نہ فرماتے، بلکہ فرماتے، اے پیارے انس، گئے نہیں ہو اور حضرت انس بڑی معصومیت سے جواب دیتے، ادھر ہی جا رہا ہوں، اور اس پر آپ کریمانہ اخلاق کی بنا پر خاموش ہو جاتے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2310 سے ماخوذ ہے۔