صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب حُسْنِ خُلُقِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ إِسْحَاق : قَالَ أَنَسٌ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا ، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ ، لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَقَالَ : يَا أُنَيْسُ ، أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ ، قَالَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ،حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق سب سے اچھا تھا، آپﷺ نے ایک دن ایک ضرورت کے لیے مجھے بھیجتا چاہا تو میں نے کہا، الہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا اور میرے جی میں یہی تھا کہ اللہ کے نبی نے جس مقصد کے لیے مجھے بھیجنا چاہا ہے، میں اس کے لیے جاؤں گا۔ سومیں نکلا، حتی کہ بچوں کے پاس سے گزرااور وہ بازار میں) کھیل رہے تھے، (میں ان کے پاس رک گیا) اچانک رسول اللہ ﷺ نے پیچھے سے آ کر میری گدی کوپکر لیا تومیں نے آپﷺ کر طرف دیکھا اور آپ ہنس رہے تھے، آپﷺ نے فرمایا: ”اے انیس! کیا جدھر میں نے تمہیں بھیجا تھا ادھر گئے ہو؟‘‘ میں کہا، جی ہاں میں جاتا ہوں، اے اللہ کے رسول!
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ کا اخلاق سب لوگوں سےاچھا تھا۔